
نومنتخب تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اور ٹی وی کےکے سربراہ جوزف وجے 10 مئی کو چنئی کے جواہر لال نہرو اسٹیڈیم میں منعقدہ حلف برداری تقریب کے دوران لوگوں کے ساتھ سیلفی لیتے ہوئے۔ (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: 10مئی کو جب اداکار اور تملگا ویترِی کڑگم (ٹی وی کے) کے رہنما جوزف وجے نے تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لیتے ہوئے دونوں ہاتھ پھیلا کر مٹھی بلند کی، تو ناظرین کو اس ڈرامائی انداز کی جھلک ملی جس سے یہ ریاست طویل عرصے سے واقف رہی ہے۔
تقریباً تین دہائیوں سے وجے تمل ناڈو کے اجتماعی شعور میں ایک الگ مقام رکھتے ہیں۔ لاکھوں مداحوں کے لیے وہ باکس آفس پر زبردست طاقت رکھنے والے سپر اسٹار ہیں۔ فلمی صنعت کے لیے وہ تمل سنیما کے آخری بڑے ’ماس سپر اسٹار‘میں سے ایک ہیں، لیکن سیاسی تجزیہ کاروں کے لیے وجے طویل عرصے سے ایک ایسے شخص رہے ہیں جو خاموشی سے عوامی زندگی کی تیاری کر رہے تھے۔
جب انہوں نے اپنی سیاسی جماعت ٹی وی کے کا آغاز کیا تو یہ تبدیلی محض قیاس آرائی نہیں رہ گئی۔ تمام اوپینین پول اور ایگزٹ پولز کو غلط ثابت کرتے ہوئے وجے کی پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں 35 فیصد ووٹ شیئر کے ساتھ 108 نشستوں پر شاندار کامیابی حاصل کی۔
وجے کوسیاسی عروج اچانک حاصل نہیں ہوا۔ اس کی کہانی برسوں سے لکھی جا رہی تھی-فلموں، علامتی اشاروں، عوامی رابطوں اور کبھی کبھی معنی خیز خاموشیوں کے ذریعے۔
سال1974 میں فلم ڈائریکٹر ایس اے چندرشیکھر اور پلے بیک گلوکارہ شوبھا چندرشیکھر کے گھر پیدا ہونے والے جوزف وجے چندرشیکھر نے سنیما میں قدم امیدوں اور اقربا پروری کے الزامات کے بوجھ کے ساتھ رکھا۔
دراصل، وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کے بعد اپنی تقریر میں وجے نے کہا کہ ان کی پیدائش ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے گھر ہوئی اور وہ غربت اور بھوک کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
تمل سنیما میں ان کا ابتدائی دور اتار چڑھاؤ کا شکار رہا۔ ’نالیا تھیرپو‘ اور ’سیندھورا پانڈی‘جیسی فلموں نے انہیں پہچان تو دی، لیکن ابتدا میں انہیں نہ تو فطری اداکار سمجھا گیا اور نہ ہی مستقبل کا سپر اسٹار۔ ناقدین اکثر ان کی اسکرین پر موجودگی، مکالمے کی ادائیگی اور ڈانس پر سوال اٹھاتے تھے۔
سال1996 میں ہدایت کار وکرمن کی فلم’پووے اُنککاگا‘ان کے کیریئر کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہوئی۔ اس فلم نے وجے کی امیج مکمل طور پر بدل دی۔ وہ ایک خاموش مزاج رومانوی ہیرو کے طور پر ابھرے جو جذباتی کہانیوں کو پردے پرمضبوطی سے نبھا سکتے تھے۔ اس کے بعد’لو ٹوڈے‘، ’کدھلکو مرئیادھئی‘اور’تھلاڈھا منمم تھلولم‘جیسی فیملی فلموں کی کامیابی نے انہیں نوجوانوں اور خاندانوں میں بے حد مقبول بنا دیا۔
ان کے کیریئر کا اگلا مرحلہ اور بھی اہم تھا۔ وجے نے آہستہ آہستہ خود کو ایک ایکشن اسٹار کے طور پر منوایا۔ یہ تبدیلی تمل سنیما کے اس معروف فارمولے کے مطابق تھی جس میں رومانوی ہیرو بعد میں عوامی اور سیاسی رنگ رکھنے والے کرداروں کی طرف بڑھتے ہیں۔ اس کا آغاز ’تھیروملائی ‘سے ہوا، لیکن 2004 میں آنے والی فلم’گلی‘نے اسے مضبوطی سے قائم کر دیا۔
جوزف وجے فلم گلی کے ایک منظر میں۔ (تصویر: یوٹیوب ویڈیو کا اسکرین گریب)
گلی صرف ایک بلاک بسٹر نہیں تھی۔ اس فلم نے وجے کو کامرشیل سنیما کی سب سے بڑی طاقتوں میں تبدیل کر دیا۔ ان کا انداز، پنچ ڈائیلاگ، ڈانس اور عام آدمی والے ہیرو کی امیج آگے چل کر ان کے کیریئر کی پہچان بن گئی۔ پوکیری، سیواکاسی، تھوپاکی اور کاٹھی جیسی فلموں نے ان کی ماس امیج کو مزید مضبوط کیا۔ اسی دور میں ان کے فین کلب پورے تمل ناڈو میں تیزی سے پھیل گئے اور ان فین کلب کے تنظیمی ڈھانچے ابتدائی سیاسی کیڈر نیٹ ورک جیسے دکھائی دینے لگے۔
جیسے جیسے وجے کی مقبولیت بڑھتی گئی، ان کی فلموں میں سیاسی پیغامات بھی واضح ہونے لگے۔ 2009 میں ان کی 50ویں فلم سُرا کی ریلیز کے آس پاس، وجے نے عوامی طور پر اشارہ دینا شروع کیا کہ انہیں سیاست سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔
تمل سنیما میں پردے کی امیج اور سیاسی عزائم کے درمیان فاصلہ تاریخی طور پر دھندلا رہا ہے۔ سی این انا دورائی اور ایم کروناندھی سے لے کر ایم جی رام چندرن اور جے جے للیتا تک، سنیما اکثر سیاست کی سیڑھی رہا ہے۔ وجے بھی اس روایت کو سمجھتے دکھائی دینے لگے تھے۔
جوزف وجے فلم تھلائیوا کے ایک منظر میں۔ (تصویر: یوٹیوب ویڈیو / مشری موویز کا اسکرین گریب)
تھلائیوا جیسی فلموں میں محتاط قیادت اور عوامی ذمہ داری جیسے موضوعات دکھائے گئے۔ فلم ریلیز سے پہلے تنازعات کا شکار ہوئی اور سیاسی مخالفت کے باعث تمل ناڈو میں اس کی نمائش میں تاخیر ہوئی۔ تھلائیوا کا مطلب ہی’لیڈر‘ہوتا ہے اور اس کی کہانی نے وجے کے سیاسی عزائم سے متعلق قیاس آرائیوں کو مزید بڑھا دیا۔ وجے نے فلم کی ریلیز یقینی بنانے کے لیے اس وقت کی وزیر اعلیٰ جے للیتا سے ملاقات کی بھی کوشش کی تھی۔ جب یہ ممکن نہ ہو سکا تو انہوں نے فلم کی بلا رکاوٹ ریلیز کی اپیل کرتے ہوئے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا۔
لیکن مرسل اور سرکار جیسی فلموں نے وجے کو کھل کر سیاسی دائرے میں لا کھڑا کیا۔
مرسل میں صحت کے نظام پر تنقید کی گئی تھی اور مرکزی حکومت کی بعض پالیسیوں پر سوال اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد بی جے پی رہنماؤں نے سخت ردعمل دیا۔ اسی دور میں وجے نے عوامی بیانات میں’جوزف وجے‘نام کا استعمال بڑھانا شروع کیا، جسے کئی لوگوں نے ہندوتوا گروہوں کے حملوں کے جواب اور اپنی شناخت کے اظہار کے طور پر دیکھا۔ فلم میں جی ایس ٹی اور ڈیجیٹل انڈیا کے حوالے سے ہونے والے تنازعہ نے وجے کو قومی سیاسی ڈسکورس کے مرکز میں لا دیا۔ بی جے پی رہنماؤں نے فلم پر تنقید کی، جبکہ حامیوں نے وجے کو ایک ایسے مرکزی دھارے کے ستارے کے طور پر پیش کیا جو اقتدار سے سوال کرنے کے لیے تیار تھا۔
سال2018 کی فلم سرکار نے اس سے بھی بڑا سیاسی تنازعہ پیدا کیا۔ انتخابی بے ضابطگیوں اور حکومتی نظام پر مبنی کچھ مناظر پر تمل ناڈو کی آل انڈیا انا دراوڑ منیتر کزگم (اے آئی اے ڈی ایم کے) حکومت نے اعتراض کیا۔ وزراء نے کچھ حصے حذف کرنے کا مطالبہ کیا اور سنیما گھروں کے باہر احتجاج ہوئے۔ لیکن ان تنازعات نے وجے کو نقصان پہنچانے کے بجائے ان کی اس شبیہ کو مزید مضبوط کیا جس میں وہ اقتدار سے ٹکرانے والے اداکار کے طور پر دکھائی دیتے تھے۔
تب تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ وجے کی سیاسی خواہش کوئی اتفاق نہیں تھی۔
ان کے فین کلب آہستہ آہستہ سماجی فلاحی تنظیموں میں تبدیل ہونے لگے۔ تعلیمی معاونت کے پروگرام، خون عطیہ کیمپ اور امدادی سرگرمیوں نے سنیما سے باہر بھی ان کی زمینی موجودگی برقرار رکھی۔
کچھ عوامی واقعات نے ان کی سیاسی شبیہ کو مزید مضبوط کیا۔
سال2017 میں جلی کٹو کی حمایت میں ہونے والے مرینا احتجاج کے دوران وجے نے انتہائی محتاط انداز میں سیاسی موجودگی ظاہر کی۔ وہ ماسک پہن کر احتجاجی مقام پر پہنچے تاکہ زیادہ تشہیر سے بچتے ہوئے بھی تحریک کی حمایت کا اشارہ دے سکیں۔ اسے تمل شناخت اور علاقائی حقوق کی حمایت کے طور پر دیکھا گیا۔
ایک اور اہم لمحہ اس وقت آیا جب اریالور کی دلت طالبہ انیتا کی خودکشی کے بعد وجے ان کے خاندان سے ملنے پہنچے۔ انیتا کی موت نیٹ مخالف تحریک کی ایک بڑی علامت بن گئی تھی۔ ایسے وقت میں جب فلمی ستارے عموماً متنازعہ مباحث سے دور رہتے ہیں، وجے کا یہ قدم سماجی انصاف اور تعلیم میں عدم مساوات کے حوالے سے عوامی خدشات کے ساتھ ہمدردی کے طور پر دیکھا گیا۔
اس کے باوجود وجے نے طویل عرصے تک اسٹریٹجک ابہام برقرار رکھا۔ مسلسل قیاس آرائیوں کے باوجود انہوں نے براہ راست انتخابی سیاست میں قدم نہیں رکھا۔ یہی احتیاط انہیں رجنی کانت جیسے اداکاروں سے مختلف بناتی ہے، جن کی طویل سیاسی اشارہ بازی آخرکار عوامی جوش و جذبے کو کمزور کر گئی۔
جب وجے نے آخرکار 2024 میں ٹی وی کےکا اعلان کیا تو اس کا وقت نہایت سوچ سمجھ کر منتخب کیا گیا محسوس ہوا۔ ایم۔ کروناندھی اور جے جے للیتا کی وفات کے بعد تمل ناڈو کی سیاست کافی بدل چکی تھی۔
وجے کے اعلان سے یہ اشارہ ملا کہ انہیں لگتا ہے اب وقت ان کے حق میں ہے۔
ان کی ابتدائی سیاسی حکمت عملی بھی قابل ذکر رہی۔ وجے نے خود کو دراوڑی سیاست کی دونوں بڑی جماعتوں اور بی جے پی کی قیادت والے قومی اتحاد سے الگ دکھانے کی کوشش کی۔
انتخابات میں غیر متوقع اور بڑی کامیابی کے باوجود، وجے نے ودوتھلائی چروتھئیگل کچی(وی سی کے) اور بائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت لینے کو ترجیح دی، بجائے اس کے کہ وہ اے آئی اے ڈی ایم کے یا پٹالی مکال کچی کے ساتھ جاتے۔ اس فیصلے کو ٹی وی کے کی آزاد سیاسی شناخت برقرار رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا گیا، تاکہ وہ پرانی ذات پات یا اتحاد پر مبنی سیاست میں ضم نہ ہو جائے۔
تمل ناڈو کی سیاست گہرے تنظیمی ڈھانچے پر قائم رہی ہے، اور بغیر مضبوط کیڈر کے باہر سے آنے والی شخصیات کے لیے یہاں جگہ بنانا آسان نہیں رہا۔ صرف فلمی مقبولیت اب سیاسی کامیابی کی ضمانت نہیں رہی۔ پھر بھی وجے کو ہلکے میں لینا جلد بازی ہوگی۔ تمل ناڈو میں بہت کم عوامی شخصیات کے پاس طبقاتی اور علاقائی حدود سے بالاتر وہ جذباتی رسائی ہے جو وجے کے پاس ہے۔
تاہم، وجے کی سیاست کے اندر موجود تضادات بھی واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ ان کی کابینہ میں نظریاتی بےچینی کا ایک مرکب دکھائی دیتا ہے۔ سی ٹی آر نرمل کمار، جو پہلے تمل ناڈو بی جے پی کے آئی ٹی ونگ سے وابستہ تھے اور بعد میں اے آئی اے ڈی ایم کے کے راستے ٹی وی کے میں آئے، اب بھی ایک متنازعہ شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔ اسی طرح پارٹی کے دیگر رہنما، خصوصاً وزیر ایس کیرتھن، پہلے عوامی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کر چکی ہیں۔
اسی پس منظر میں وزیر اعلیٰ بننے کے فوراً بعد وجے کا پیریار تھڈل جانا کئی سیاسی معنی رکھتا ہے۔ کیا یہ دراوڑی سماجی انصاف کی روایت کے ساتھ ان کی نظریاتی وابستگی تھی یا پھر شکوک میں مبتلا ووٹروں کو اعتماد دینے کی ایک حکمت عملی، اس کی مختلف تشریحات کی جا رہی ہیں۔ سیاست کو صرف بیانات تک محدود رکھنے والے کئی سیلیبریٹیز کے برعکس، وجے نے اس تبدیلی کے لیے اپنے ناظرین کو طویل عرصے تک تیار کیا ہے۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ جوزف وجے 10 مئی 2026 کو چنئی کے ویپیری میں پیریار تھڈل پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
آخرکار یہی تیاری انہیں فورٹ سینٹ جارج (تمل ناڈو اسمبلی) تک لے آئی ہے۔ لیکن کیا یہ انہیں اقتدار میں برقرار رہنے میں مدد دے گی، یہ اب سب سے بڑا سوال ہے۔
تاہم ایک بات اب پوری طرح واضح ہے-وجے کی سیاسی کہانی کسی پارٹی کے اعلان سے شروع نہیں ہوئی تھی۔ اس کی ابتدا بہت پہلے ہو چکی تھی… ان سینما گھروں میں، جہاں ایک سپر اسٹار آہستہ آہستہ اقتدار کے کردار کی مشق کر رہا تھا۔






