
سابق دفاعی مشیر ویس برائنٹ نے کہا کہ جب کسی واقعے میں شہری ہلاکتوں اور امریکی سرگرمی دونوں کے شواہد موجود ہوں تو باقاعدہ تحقیقات شروع کی جاتی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام کو پہلے ہی کچھ علم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے بھی بارہا سوالات اٹھائے ہیں، مگر انہیں موصول ہونے والے سرکاری خطوط میں واضح جوابات نہیں دیے گئے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا ہے، جس سے شکوک میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماضی کے واقعات سے موازنہ کیا جائے تو امریکہ نے شہری ہلاکتوں کے معاملات میں نسبتاً جلدی ذمہ داری قبول کی اور معذرت بھی کی، مگر میناب کے معاملے میں غیر معمولی خاموشی برقرار ہے، جسے ماہرین شفافیت کے فقدان اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔






