پہلے ’نکسل سازش‘ کا دعویٰ، بعد میں کم از کم اجرت میں اضافہ

AhmadJunaidJ&K News urduApril 14, 2026358 Views


نوئیڈا کے انڈسٹریل ایریا میں پچھلے کئی دنوں سے مزدوروں کا احتجاج جاری ہے۔ حکومت نے پہلے اسے ’نکسل سازش‘ قرار دیا، لیکن بڑھتے دباؤ کے درمیان کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان کر دیا۔ مزدور طویل عرصے سے بہتر تنخواہ اور سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

نوئیڈا: اتر پردیش کے گوتم بدھ نگر ضلع کے نوئیڈا میں اجرت بڑھانے کے مطالبے پر احتجاج کے دوران ایک مزدور کوپیٹتا سیکورٹی اہلکار، سوموار، 13 اپریل 2026۔ (پی ٹی آئی فوٹو)

نئی دہلی: اتر پردیش کے انڈسٹریل ایریا نوئیڈا فیز-2 میں سوموار (13 اپریل) کو جو کچھ ہوا، وہ اچانک پھوٹنے والا غصہ نہیں تھا، بلکہ ان حالات کا نتیجہ تھا جو مہینوں بلکہ برسوں سے جمع ہو رہے تھے۔

یہاں بھی مزدوروں کی وہی شکایتیں تھیں، جو ملک کے کئی صنعتی مراکز میں بار بار سننے کو مل رہی ہیں-کم تنخواہ، عارضی روزگار، بڑھتی مہنگائی اور بنیادی سہولیات کا فقدان۔

شروعات کہاں سے ہوئی؟

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اس سال کے آغاز سے ہی مختلف صنعتی شہروں میں مزدوروں کے احتجاج شروع ہو گئے تھے۔ فروری میں بہار کے برونی سے اس کی شروعات ہوئی، جہاں مزدور کم از کم اجرت میں اضافہ اور کام کے گھنٹے طے کرنے کے مطالبے کے ساتھ سڑکوں پر اترے۔ اس کے بعد سورت، مانیسر، پانی پت اور پھر نوئیڈا تک یہ سلسلہ پھیل گیا۔

ان تمام جگہوں پر مطالبات تقریباً یکساں تھے-کم از کم اجرت میں اضافہ، اوور ٹائم کی صحیح ادائیگی، بقایہ رقم کی ادائیگی اور مستقل ملازمین جیسی سہولیات۔

مزدور تنظیموں کے مطابق، نومبر 2025 میں نافذ ہونے والے نئے لیبر کوڈز کے بعد مزدوروں کو امید تھی کہ ان کی حالت بہتر ہوگی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔

نوئیڈا میں حالات کیوں بگڑے؟

نوئیڈا میں احتجاج خاص طور پر اس لیے بڑا ہو گیا کہ وہاں بڑی تعداد میں ٹھیکہ مزدور کام کرتے ہیں۔ انڈین ایکسپریس سے بات کرنے والے کئی مزدوروں نے بتایا کہ وہ ٹھیکیداروں کے ذریعے رکھے گئے ہیں اور انہیں نہ تو مستقل نوکری کی سکیورٹی حاصل ہے اور نہ ہی پی ایف یا دیگر سوشل سکیورٹی کے فائدے۔

اٹھارہ سالہ سریندر کشیپ، جو ایک گارمنٹ یونٹ میں ’میجرمنٹ چیکر‘ ہیں، بتاتے ہیں؛’میں 13,000 روپے کماتا ہوں، 4,000 کرایہ میں چلا جاتا ہے… گیس کی قیمت 400 روپے فی کلو ہو گئی ہے، کیسے گزر بسر  کریں؟‘
ان کا الزام ہے کہ کمپنی ایک گھنٹے میں 70 پیس کا ہدف دیتی ہے اور پورا نہ کرنے پر ذلیل کیا جاتا ہے۔

پچیس سالہ راہل، جو 2018 سے کام کر رہے ہیں اور دو چھوٹے بچوں کے باپ ہیں، کہتے ہیں؛’13,500روپے میں کچھ نہیں بچتا… گھر بھیجنا تو دور، بچوں کی پڑھائی کیسے کرواؤں؟‘

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ان کی تنخواہ صرف 39 روپے بڑھی۔

بہار کے سیتامڑھی سے آئے محمد نور عالم بتاتے ہیں؛’20,000 کمانے کے بعد بھی ایک پیسہ نہیں بچتا… گیس سلنڈر 5,000 روپے تک پہنچ گیا ہے۔‘

وہیں 30 سالہ ببیتا دیوی، جو جسمانی طور پر معذور ہیں، کہتی ہیں کہ 8,000 روپے میں آٹھ افراد کے خاندان کا گزارہ ناممکن ہے۔

ان ذاتی کہانیوں سے واضح ہے کہ مزدوروں کا غصہ صرف تنخواہ تک محدود نہیں تھا، بلکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، خاص طور پر بلیک مارکیٹ میں مہنگے ہوئے ایل پی جی نے ان کی حالت کو مزید خراب کر دیا۔

احتجاج کیسے پُرتشدد ہوا؟

گزشتہ8اپریل سے شروع ہونے والے احتجاجی مظاہرے آہستہ آہستہ شدت اختیار کرتے گئے اور سوموار کے روز یہ پرتشدد ہو گیا۔ ٹریڈ یونین کے رہنماؤں کا الزام ہے کہ پچھلے پانچ دنوں سے انہیں نظر بند رکھا گیا تھا، جس سے حالات مزید بگڑ گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب مزدوروں سے بات چیت ہی نہیں ہوگی تو صورتحال قابو سے باہر ہونا ہی تھی۔

دوسری جانب صنعتکاروں کا موقف بھی سامنے آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدور 35 فیصد تنخواہ میں اضافے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جیسا کہ حال ہی میں ہریانہ حکومت نے کیا ہے۔ فیکٹری مالکان نے پولیس سکیورٹی کا مطالبہ کرتے ہوئے کئی یونٹس بند کر دیے۔

حکومت کا ابتدائی ردعمل

واقعہ کے بعد اتر پردیش کے وزیرمحنت انل راج بھر نے اسے ’بڑی سازش‘کا حصہ قرار دیا اور یہاں تک کہا کہ اس میں’پاکستان لنک‘کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ صوبے میں امن و امان اور ترقی کو متاثر کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

وہیں وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بھی بیان دیا کہ یہ’نکسل ازم کو دوبارہ زندہ کرنے کی سازش‘کا حصہ ہو سکتا ہے۔ انہوں نے حکام کو محتاط رہنے اور’تخریبی عناصر‘کی نشاندہی کرنے کی ہدایت دی۔

حکومت نے یہ بھی کہا کہ مزدوروں کے مسائل کو سنا جائے گا، لیکن پرتشدد احتجاج اس کاحل نہیں ہے۔

انتظامی اقدامات اور جانچ

تشدد کے بعد ریاستی حکومت نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی، جس کی سربراہی صنعتی ترقی کے کمشنر کو سونپی گئی۔ کمیٹی کو مزدوروں اور صنعتوں کے درمیان بات چیت کر کے حل نکالنے کی ذمہ داری دی گئی۔

پولیس نے بھی تشدد بھڑکانے والوں کی شناخت کر کے سخت کارروائی کی وارننگ دی ہے۔

آخرکار کیا بدلا؟

ان واقعات کے بعد حکومت نے کم از کم اجرت میں اضافے کا اعلان کیا۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق، یہ نئی شرحیں 1 اپریل 2026 سے نافذ سمجھی جائیں گی۔

نوئیڈا (گوتم بدھ نگر) اور غازی آباد میں اب؛

غیر ہنر مند مزدور: 13,690 روپے

نیم ہنر مند: 15,059 روپے

ہنر مند: 16,868 روپے

دیگر میونسپل علاقوں اور باقی اضلاع میں بھی اسی طرح مختلف شرحیں طےکی گئی ہیں۔

حکومت نے یہ بھی واضح کیا کہ 20,000 روپے کم از کم اجرت کی بات ’گمراہ کن‘ہے۔

کیا یہ حل ہے؟

حکومت نے اجرت میں اضافے کو’متوازن قدم‘قرار دیا ہے۔ لیکن مزدوروں کے ابتدائی مطالبات اور ان کی حقیقی آمدنی و اخراجات کو دیکھتے ہوئے یہ سوال برقرار ہے کہ کیا یہ اضافہ ان کے معیار زندگی میں واقعی بہتری لا سکے گا۔

واضح ہوکہ نوئیڈا کا واقعہ صرف ایک دن کا’تشدد‘نہیں تھا، بلکہ مزدوروں کے درمیان بڑھتے عدم اطمینان کا اظہار تھا، جو برونی سے شروع ہو کر کئی صنعتی شہروں میں نظر آ رہا ہے۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، عارضی روزگار اور توقعات نے اس غصے کو جنم دیا۔

حکومت نے اب اجرت بڑھا کر فوری راحت دینے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ اصل چیلنج بات چیت، اعتماد اور مزدوروں کی بنیادی حفاظت کو یقینی بنانا ہے، ورنہ یہ عدم اطمیان دوبارہ کسی اور صنعتی شہر میں غصے کی وجہ بن سکتا ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...