پہاڑی عوام کی سلامتی، میدانی علاقوں کی بقا کا ضامن

AhmadJunaidJ&K News urduJune 17, 2026362 Views


اگر ہم نے پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد ہندوستان اور پاکستان کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔

علامتی تصویر، فوٹو: پی ٹی آئی

ہندوستان میں اپوزیشن کانگریس پارٹی کے موجودہ ترجمان جئے رام رمیش 2009سے 2011کے درمیان مرکزی وزیر ماحولیات کے عہدے پر فائز تھے۔وہ ماحولیاتی لحاظ سے حساس زونز میں صنعتیں، کان کنی یا سڑک کے منصوبوں کو کڑی جانچ پڑتال کے بعد ہی منظوری دیتے تھے۔

ایک روز شمال-مشرقی صوبہ میگھالیہ کے وزیر اعلیٰ کونارڈ سنگما ان کے کمرے میں دندناتے ہوئے سخت غصہ کی حالت میں داخل ہوئے۔ وہ اپنے صوبہ میں کوئی صنعتی یا کان کنی کا منصوبہ شروع کرنا چاہتے تھے، مگر جئے رام رمیشن کا محکمہ اس کی ماحولیاتی منظوری نہیں دے رہا تھا۔

وہ ان کو بتا رہے تھے کہ انتخابات صنعتیں لگا کر پبلک کو نوکریا ں دے کر اور ان کی زندگیاں بہتر بناکر جیتے جاتے ہیں نہ کہ درخت لگانے یا جنگلوں کو بچانے سے۔ وہ ان سے پوچھ رہے تھے کہ اگلے انتخابات میں وہ کیا منہ لے کر ووٹروں کے پاس جائیں گے، جن سے انہوں نے نوکریوں اور صنعتیں لگانے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔

ابھی حال ہی میں پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں ایجی ٹیشن کے رد عمل میں  پاکستان کے چند سینئر صحافی اور دانشور وہاں کے باسیوں کو طعنے دے رہے تھے کہ پاکستانی عوام کی قیمت پر ان کو سستی بجلی اور آٹا ملتا ہے۔ جس بجلی کی قیمت پاکستان میں فی یونٹ چالیس روپے ہے وہ پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں تین روپے فی یونٹ ملتی ہے۔کئی افراد تو یہ بھی شکوہ کر رہے تھے کہ میدانی علاقوں میں رہنے والوں کو بھی  کشمیر کے پہاڑوں میں زمینیں خریدنے اور جائیدادیں بنانے کی اجازت ملنی چاہیے۔

چند سال قبل بین الاقوامی سطح پر پانی کے معاملات کی معروف ماہر انوککا لیپونین نے ایک عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران ایک نہایت اہم اصول کی طرف اشارہ کیا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب دنیا میں ایک ضابطہ طے ہو چکا ہے کہ نیچے میدانی علاقوں (ڈاون اسٹریم) میں رہنے والی آبادیوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپ اسٹریم پہاڑی علاقہ کے باشندوں کو انرجی سکیورٹی  اور معاشی وسائل مہیا کرائیں۔تاکہ وہ اس کے بدلے میں گلیشیروں اور جنگلات کی حفاظت کر کے نیچے رہنے والی آبادی کے لیے وافر مقدار میں پانی کی فراہمی کو برقرار رکھیں، جس سے میدانی علاقوں کی فوڈ سکیورٹی یقینی بنے۔

مجھے یا د ہے کہ کونارڈ سنگما کی زبانی گولہ باری کے بعد جئے رام رمیش نے پہاڑی صوبوں اور ان سے متصل میدانی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی ایک میٹنگ کروائی تھی، جس میں مختلف صوبوں نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔

جس کی رو سے آسام اور مغربی بنگال کو پابند کر دیا گیا تھا کہ ان کے پڑوس میں اپ اسٹریم پہاڑی صوبوں کے باسیوں کے لیے روزگار فراہم کروائیں اور ان کو اپنے علاقوں میں سہولیات بہم کرائیں، تاکہ وہ جنگلات اور ماحولیات کی حفاظت کرکے میدانی صوبو ں کی زراعت کے لیے ایک حفاظتی ماحول بنا سکیں۔

اسی طرح شمال میں اتراکھنڈ اور ہماچل پردیش نے ایسی ہی ایک یادداشت پر پنجاب، ہریانہ اور اتر پردیش کے ساتھ دستخط کیے تھے۔ جموں و کشمیر کے بارے میں بتایا گیا کہ چونکہ اس کا پانی پاکستان جاتا ہے اس لیے کسی بھی صوبہ کو اس کی ذمہ داری لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

پہاڑی اور میدانی علاقوں کے درمیان یہ ایک’ہم زیستی‘ یعنی سیم بائیٹک رشتہ ہے، جس سے دونوں خطوں کے زندہ و پائندہ رہنے کی صورت پیدا ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے کسان اور شہری 80فیصد غذائی ضروریات دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانیوں سے پوری کرتے ہیں۔

انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کشمیر، گلگت، اسکردو اور لداخ کے ان پہاڑی منبعوں کی دیکھ ریکھ کا معاشی بار بالواسطہ یا بلاواسطہ ان پر عائد ہوتا ہے۔ اگر میدانی علاقوں کے لوگ پہاڑوں کے ماحول کو بچانے کا بار نہیں اٹھائیں گے، تو پہاڑوں میں رہنے والے لوگ زندہ رہنے کے لیے جنگلات کاٹیں گے، مقامی وسائل پر دباؤ بڑھائیں گے اور نتیجہ یہ نکلے گا کہ گلیشیر وقت سے پہلے پگھل کر ختم ہو جائیں گے۔

حکومتوں کو چاہیے کہ جب پہاڑوں کی آبادی اور سیاحت ایک حد سے تجاوز کر جائے، تو سائنسی بنیادوں پر ان کو نیچے میدانی علاقوں میں آنے کی ترغیب دیں، تاکہ بڑھتی ہوئی آبادی اور آمد و رفت کی وجہ سے گلیشیر وقت سے قبل ہی پگھل نہ جائیں، جس کے خطرناک نتائج نکل سکتے ہیں۔

چند سال قبل  اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس نے ایک طویل بحث کے بعد لاس اینڈ ڈیمیج فنڈکو منظوری دی تھی۔ اس فنڈ کے رہنما اصولوں میں پہاڑی علاقوں کے لوگوں کی زندگی اور ان کی توانائی کی ضروریات مہیا کرنے کا واضح ذکر ہے۔

باضابطہ مطالعہ (اسٹڈی) کر کے اس فنڈ کو حاصل کیا جاسکتا ہے اور اسے ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے اور پہاڑوں میں رہنے والوں کو مراعات دینے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ بجائے پہاڑوں میں رہنے والوں کو طعنہ دینے کے، کوشش کریں کہ ان کی مدد  کرکے  نیچے میدانی علاقوں کی زراعت اور بقا کو برقرار رکھا جائے۔

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ تہذیبوں کا عروج و زوال پانی کے راستوں سے جڑا رہا ہے، لیکن موجودہ دور کی سیاست نے پانی کو زندگی کی علامت کے بجائے جنگ کے ایک ہتھیار میں تبدیل کر دیا ہے۔

حال ہی میں ہندوستان کے مرکزی وزیر برائے جل شکتی یعنی وزارت وسائل آب سی آر پاٹل نے ایک ایسا بیان دیا  جس نے خطے کے ماحولیاتی اور سفارتی حلقوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

وزیر موصوف کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات پر وزیر داخلہ امت شاہ ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور آنے والے برسوں میں یہ یقینی بنایا جائے گا کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کے پانی کا ایک بھی قطرہ بھی پاکستان کی طرف نہ جائے۔

سکیورٹی اور سفارتی محاذ پر اس قسم کے بیانات بھلے ہی داخلی سیاست کے لیے سودمند ثابت ہوں، لیکن زمین پر موجود جغرافیائی اور سائنسی حقائق کے آئینے میں یہ بیانات ایک بھیانک ماحولیاتی سانحے کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سیاستدانوں اور سرحدوں کے محافظوں کو شاید یہ بنیادی حقیقت یاد دلانے کی ضرورت ہے کہ فطرت، بادل، ہوائیں اور دریا کسی ملک کے پاسپورٹ، ویزا یا سیاسی دشمنی کی بنیاد پر اپنا راستہ تبدیل نہیں کرتے۔ ماحولیاتی مسائل اور گلوبل وارمنگ کی ہلاکت خیزیاں کسی سرحد کی محتاج نہیں ہوتیں۔

شا ید وزیر موصوف کو معلوم نہیں ہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں کو جنم دینے والے کشمیر اور لداخ کے پہاڑی گلیشیر پچھلے چند عشروں سے تیز رفتاری کے ساتھ پگھل کر ختم ہو رہے ہیں۔

پیاس جب دونوں طرف برابر لگے گی، تو سرحدوں کی یہ لکیریں پانی کے بحران کو حل نہیں کر پائیں گی۔ دریائے سندھ اور اس کی معاون ندیوں کو پانی مہیا کرنے والے گلیشیروں میں سے تین ہزار سے زائد گلیشیر صرف کشمیر اور لداخ کے پہاڑوں میں آباد ہیں۔ ان پہاڑی علاقوں کا جنگلاتی نظام گلیشیر پورے برصغیر کی فوڈ سکیورٹی  کے ضامن ہیں۔

 اسی دوران حال ہی میں  وقت یونیورسٹی آف کشمیر اور نیو دہلی کے انٹر یونیورسٹی ایکسیلیریٹر سینٹر (آئی یواے سی) کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری کی گئی ایک نئی سائنسی تحقیق  سے ایک ہولناک حقیقت سامنے آئی ہے۔

وادی کشمیر کا سب سے مشہور، سیاحوں کا پسندیدہ اور سونہ مرگ کی معاشی و ماحولیاتی زندگی کا ضامن ’تھجواسن گلیشیر‘اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔یہ گلیشیر اب تک اپنے حجم کا 95 فیصد حصہ کھو چکا ہے۔

سائنسدانوں کی اس تحقیق،کے مطابق جو گلیشیر کبھی 54 مربع کلومیٹر کے وسیع و عریض رقبے پر پھیلا ہوا تھا، وہ اب سکڑ کر صرف 2.5 مربع کلومیٹر کا ایک عارضی’ملبہ‘بن کر رہ گیا ہے۔

سائنسی اصطلاح میں اسے اب ریلک آف اے گلیشیریعنی باقیات کہا جا رہا ہے۔ آج اگر کوئی سیاح سونہ مرگ جاتا ہے تو اسے سفید برف کی چادر کے بجائے خشک چراہ گاہیں، ننگی بھوری مٹی اور ہری گھاس کے ٹکڑے نظر آتے ہیں۔

ماحولیاتی جغرافیہ دان ڈاکٹر مسعود احمد بیگ نے خبردار کیا ہے کہ تھجواسن میں اب صرف پانچ سے سات  فیصد برفانی حصہ باقی بچا ہے، جو کہ کسی بڑے ماحولیاتی سانحے سے کم نہیں ہے۔

تھجواسن گلیشیر صرف ایک سیاحتی مقام نہیں ہے، بلکہ یہ دریائے سندھ کے ایک اہم ترین معاون دریا،کے لیے پانی کا بنیادی منبع ہے۔ اس کا ختم ہونا کشمیر کی زراعت، باغبانی اور ہائیڈرو پاور کے منصوبوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے نشیبی علاقوں کے لیے بھی پانی کی سپلائی کو براہِ راست متاثر کرے گا۔

سائنسدانوں کے مطابق اس تباہی کی وجوہات گلوبل وارمنگ کی وجہ سے بڑھتا ہوا درجہ حرارت، سردیوں میں برفباری کی شدید کمی، گاڑیوں کا دھواں اور بلیک کاربن کی آلودگی کے ساتھ ساتھ حساس ماحولیاتی زون میں سیاحوں کا بے لگام دباؤ ہے۔

یہ صرف تھجواسن کا قصہ نہیں ہے۔ پچھلے دو عشروں سے کشمیر کا سب سے بڑا گلیشیر ‘کلاہوئی گلیشیر اپنی ناک ٹاپ سے کئی میٹر سے زائد پگھل چکا ہے، اور اس کے اطراف کے چھوٹے گلیشیر تو کب کے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔

ہمالیہ خطے کے15 ہزار گلیشیر دنیا کے چار بڑے دریاؤں —سندھ، گنگا،میکانگ اور برہم پترا—کے لیے واٹر بینک کا کام کرتے ہیں، جن پر لگ بھگ تین ارب انسانوں کی زندگیوں کا انحصار ہے۔

جنوبی کشمیر کے پہلگام سے متصل ہندوؤں کے مقدس مقام امرناتھ غار کے اوپر موجود وہ گلیشیر، جس کے پگھلنے والے پانی سے غار کے اندر قدرتی طور پر برف کا ’شیولنگ‘بنتا ہے، وہ خود ایک سو میٹر تک پیچھے ہٹ چکا ہے۔

شمالی کشمیر کے مشہورِ زمانہ سیاحتی مقام گلمرگ کے نزدیک واقع’افروئٹ گلیشیر کا وجود بھی ختم ہو چکا ہے۔ پچاس سال قبل چناب طاس میں 8 ہزار مربع کلومیٹر کے قریب گلیشیر موجود تھے، جو اب سکڑ گئے ہیں۔

انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ ان نازک گلیشیروں کو سب سے بڑا خطرہ خود حکومتی پالیسیوں اور بے لگام مذہبی سیاحت سے لاحق ہے۔ جنوبی کشمیر میں امرناتھ اور شمالی ہندوستان کے صوبہ اترا کھنڈ کے چار مقدس مقامات بدری ناتھ، کیدار ناتھ، گنگوتری اور یمنوتری اس کی بڑی مثالیں ہیں۔

دو دہائیاں قبل تک امرناتھ یاترا میں زائرین کی تعداد انتہائی محدود ہوتی تھی، لیکن حالیہ برسوں میں سیاسی مہم جوئی اور قوم پرستانہ سیاست کے تحت لاکھوں کی تعداد میں لوگوں کو پہاڑوں پر بھیجا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ماحولیات کا تحفظ نہیں بلکہ کشمیر کے جغرافیے پر ایک خاص مذہبی شناخت کو مسلط کرنا ہے، تاکہ اس پر سیاسی دعووں کو مزید مستحکم کیا جا سکے۔

سندھ طاس کو پانی دینے والے کشمیر کے پہلگام اور کلاہوئی گلیشیر کے خطے میں روزانہ بیس ہزار یاتری اور سیاح مئی سے اگست کے درمیان اس نازک ماحولیاتی زون کو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں، جس سے وہاں بلیک کاربن کی مقدار میں ہولناک اضافہ ہو رہا ہے۔

گلیشیروں کے ساتھ ساتھ وادیِ کشمیر کے اندر موجود وہ تمام قدرتی جھیلیں اور ویٹ لینڈز  جو پاکستان کی طرف بہنے والے دریاؤں کے لیے ’اسپنج‘یا واٹر بینک کا کام کرتی تھیں، اب لینڈ مافیا، تجاوزات اور حکومتی عدم توجہی کی وجہ سے دم توڑ رہی ہیں۔

اس کی سب سے بڑی مثال جھیل ولرہے۔ سوپور اور بانڈی پورہ کے درمیان واقع یہ جھیل کسی زمانے میں ایشیا میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل مانی جاتی تھی۔ یہ پاکستان کے میدانی علاقوں کے کسانوں کے لیے سردیوں کے ایام میں پانی فراہم کرنے والا سب سے بڑا قدرتی ذخیرہ اور واٹر بینک ہے۔

حکومت کی ویٹ لینڈ ڈائریکٹری میں اس جھیل کی پیمائش981مربع کلومیٹر درج ہے۔جبکہ سابق مرکزی وزیر سیف الدین سوز کے مطابق، اس جھیل کا موثر پانی کا رقبہ اب صرف24 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔ جھیل کے 77 فیصد رقبے پر دریائے جہلم، نالہ ارن اور مدھومتی سے آنے والی سلٹ مٹی اور گارا جمع ہو چکی ہے۔ اس کے52 کلومیٹر سے زائد دلدلی رقبے پر خود حکومت نے سوشل فارسٹری کے نام پر بید کے درختوں کی نرسریاں لگا دیں اور کچھ حصے کو دھان کے کھیتوں میں تبدیل کر دیا ہے۔

ہندوستان کے لیے شاید ولر کی اتنی معاشی اہمیت نہ ہو، لیکن پاکستانی زراعت اور وہاں کے ہائیڈرو پاور منصوبوں کے لیے یہ جھیل کسی شہ رگ سے کم نہیں ہے۔ دونوں ممالک نے وولر بیراج یا ٹولبل نیویگیشن پروجیکٹ پر سالہا سال سیاسی اور سفارتی جنگیں لڑیں، لیکن کبھی بھی کسی اجلاس میں اس جھیل کی گرتی ہوئی صحت اور اس کے سکڑتے ہوئے حجم پر بات کرنا گوارہ نہیں کیا۔

ولر کے علاوہ سرینگر اور شمالی کشمیر کی دیگر اہم جھیلیں جیسے بڑی نمبل، میر گنڈ، شالہ بوگ، ہوکر سر اور حئی گام اب تجاوزات کی زد میں ہیں۔ سوپور شہر کے وسط میں واقع ’مسلم پیر بوگ‘نامی تاریخی جھیل، جو کبھی قصبے کے اندر پانی کا ایک وسیع ذخیرہ تھی، اسے پاٹ کر اب وہاں شان و شوکت سے ایک شاپنگ مال کھڑا کر دیا گیا ہے، اور وہاں کی نئی نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ وہاں کبھی پانی کا کوئی وجود بھی تھا۔

کشمیر کے اندر ماحولیاتی توازن کو بگاڑنے میں صرف حالیہ حکومتیں ہی قصوروار نہیں ہیں، بلکہ ماضی کے مقبول رہنماؤں کی دور اندیشی سے عاری پالیسیاں بھی برابر کی شریک ہیں۔

سال1977میں اقتدار سنبھالتے ہی عوامی وزیر اعلیٰ مرحوم شیخ محمد عبداللہ نے ایک انتہائی بھیانک ماحولیاتی غلطی کی۔انہوں نے اپنے آبائی علاقے صورہ اور حضرت بل تک سیکرٹریٹ سے سیدھا راستہ بنانے کے لیے اس پورے نالہ مار کو مٹی سے پاٹ کر ایک دو رویہ سڑک میں تبدیل کر دیا۔ اس ایک فیصلے نے سرینگر کے پورے ہائیڈرولوجیکل نظام کو تباہ کر دیا۔

اس کے بعد سیاسی اثر و رسوخ، رشوت ستانی اور بیوروکریسی کی ناہلی کی وجہ سے کشمیر کا جنگلاتی رقبہ 73 فیصد سے گھٹ کر صرف 11فیصد رہ گیا ہے۔  یہ سچ ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کو رہائش کے لیے گھروں کی ضرورت ہے، لیکن اگر تھوڑی سی سائنسی پلاننگ کی جاتی تو ماحولیات اور آبادی کی ضروریات میں ایک توازن برقرار رہ سکتا تھا۔

ضرور ت بس اس قدر ہے کہ فیصلہ سازوں کی کرسیوں پر دور اندیش شخصیت کے ساتھ دردمند دل اور دماغ بیٹھا ہو۔فوجی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور گولیوں کی لڑائی سے تو انسان پھر بھی بچ سکتا ہے، لیکن اس ماحولیاتی جہالت، سیاسی دھونس اور غیر ذمہ داری کے نتیجے میں جو قحط اور سیلاب آئیں گے، وہ کسی بھی ایٹمی جنگ سے زیادہ ہلاکت خیز ہوں گے۔

سفارتی مؤرخ رچرڈ اولمین نے قومی سلامتی کی تشریح کرتے ہوئے بالکل سچ کہا تھا کہ ہر وہ چیز جو عوامی زندگی کی بقا یا اس کے معیار کو خطرے میں ڈالتی ہے، وہ سلامتی کے زمرے میں آتی ہے۔

سی آر پاٹل جیسے وزراء کے سیاسی بیانات خطے کو تباہی کی طرف دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔ پانی کو جنگ کا ہتھیار بنانا پچاس کروڑ انسانوں کی زندگیوں سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان ’سندھ طاس معاہدے‘کو سیاسی یرغمال بنانے کے بجائے اس میں موسمیاتی تبدیلی سے متعلق نئے سائنسی ابواب شامل کریں۔

اگر دوطرفہ مذاکرات ممکن نہیں، تو سارک  تنظیم کے پلیٹ فارم کو دوبارہ بحال کر کے ایک مشترکہ’ہمالین گلیشیر پروٹیکشن کمیشن‘تشکیل دیا جائے، جو سوئس طرز پر گلیشیروں پر سیاحت کو ریگولیٹ کرے اور بلیک کاربن کے اخراج کو روکے۔

اگر ہم اب بھی نہ جاگے اور پہاڑوں کے ماحولیاتی نظام کو میدانی علاقوں کے مفادات سے ہم آہنگ نہ کیا، تو پگھلتے ہوئے گلیشیربہت جلد دونوں ملکوں کے سیاسی غرور، ان کی معیشتوں اور ان کی نام نہاد سرحدوں کو اپنے سیلابوں میں بہا کر لے جائیں گے۔ بقا کا واحد راستہ صرف اور صرف’ماحولیاتی تعاون‘ہے،’آبی جنگ‘نہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...