
تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ شیتر
نئی دہلی: ایودھیا کے رام مندر چڑھاوا سے متعلق تنازعہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ تازہ پیش رفت میں دھرم سینا بھارت کے سربراہ اور سابق کارسیوک سنتوش دوبے نے منگل (16 جون) کو مندر ٹرسٹ کے ارکان کے خلاف 200 کروڑ روپے کے فنڈ غبن کرنے کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی ہے۔
سنتوش دوبے بابری مسجد انہدام معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی کے ساتھ کلیدی ملزم تھے۔ اپنی شکایت میں انہوں نے الزام لگایا کہ مندر میں عقیدت مندوں کی جانب سے روزانہ سونے اور چاندی کے زیورات کی صورت میں ایک کروڑ روپے تک کا چڑھاوا دیا جا رہا ہے۔
ان کی شکایت میں کہا گیا ہے،’درخواست گزار اکثر رام جنم بھومی مندر میں درشن کے لیے آتے ہیں اور انہوں نے کئی بار دیکھا ہے کہ عقیدت مند ڈونیشن بکس میں سونے چاندی کے زیورات، سونے چاندی کے سکے اور نقدی ڈالتے ہیں۔ اندازہ ہے کہ روزانہ ایک کروڑ روپے سے زیادہ کی نقدی، سکے اور زیورات ان ڈونیشن بکس میں ڈالے جاتے ہیں۔ ‘
دوبے نے مزید کہا کہ ان عطیات اور اشیاء کی حفاظت کی ذمہ داری رام جنم بھومی ٹرسٹ کے عہدیداروں کی ہے، لیکن اس کی حفاظت کے بجائے انہوں نے اس کا غبن کیا۔
قابل ذکر ہے کہ سنتوش دوبے نے اپنی شکایت میں ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے بنسل اور دیگر افراد کے نام شامل کیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ ٹرسٹ کے عہدیداروں اور ملازمین، جن میں جنرل سکریٹری چمپت رائے بنسل، انل مشرا، گوپال راؤ اور رام شنکر یادو عرف ٹنو (جنہیں چمپت رائے بنسل کا ڈرائیور بتایا جاتا ہے) شامل ہیں، کی ملی بھگت سے ڈونیشن بکس سے بڑی مقدار میں پیسے، سونے چاندی کے زیورات اور سکے نکالے گئے ہیں۔ الزام ہے کہ یہ رقم 200 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔
دوبے نے ٹرسٹ کے عہدیداروں پر اکاؤنٹس میں ہیرا پھیری، غلط اعداد و شمار دکھانے اور مندر کے فنڈکا غبن کرنے کا بھی الزام لگایا ہے۔
ان کے مطابق، مختلف میڈیا رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ مندر میں چڑھاوے کے طور پر ملنے والے قیمتی جواہرات سے جڑے زیورات اور کروڑوں روپے کا غلط استعمال کیا گیا اور انہیں فروخت کیا گیا۔
شکایت میں کہا گیا ہے کہ ان میں سے کچھ اشیاء چھوٹے موٹے چوروں سے برآمد کی گئی ہیں۔
اس معاملے میں اتر پردیش پولیس سے ایف آئی آر درج کرنے کی اپیل کرتے ہوئے دوبے نے کہا،’…عقیدت مندوں کی جانب سے دیے گئے کروڑوں روپے، سونے چاندی کے زیورات، سکے اور قیمتی جواہرات کو واپس حاصل کرنے اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے یہ ضروری ہے اور انصاف اور دھرم کے مفاد میں مناسب قانونی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے اور تفتیش کے دوران ملزمین کا پولی گراف ٹیسٹ کرایا جائے ۔‘
غور طلب ہے کہ ایودھیا رام مندر چڑھاوے سے متعلق اس تنازعہ پر اپوزیشن جماعتوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جس میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) نے فنڈ کے مبینہ غلط استعمال کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس حوالے سے ایس پی کے سربراہ اکھلیش یادو نے سوموار کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا تھا، یہ افسوسناک ہے کہ اتر پردیش میں بی جے پی کی حکومت کرپٹ ہے-ورنہ ایس آئی ٹی کے بجائے آئی آئی ٹی بنائے گئے ہوتے۔‘






