نمائندگی کا توازن یا سیاسی طاقت کی نئی بساط؟

AhmadJunaidJ&K News urduMay 3, 2026358 Views


اسی لیے حدبندی کو محض انتظامیہ کی مرضی یا حکمراں جماعت کی انتخابی خواہشات پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ اس کے لیے قومی اتفاقِ رائے، آئینی بصیرت اور ایک حقیقی معنوں میں آزاد ادارے کی ضرورت ہے، جو جماعتی مقاصد سے بالاتر ہو کر کام کرے۔

ہندوستان کو فوری طور پر ایک معقول اور سائنسی اصول کی ضرورت ہے، جو آبادی کے ساتھ ساتھ ترقیاتی کامیابیوں، وفاقی استحکام اور جمہوری انصاف کے درمیان توازن قائم رکھے۔ جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، اس پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ یکطرفہ فیصلہ اور اس کے بعد کی خاموشی قابلِ قبول نہیں۔

راہل گاندھی پہلے ہی یہ الزام لگا چکے ہیں کہ موجودہ صورتحال حکمراں جماعت کو 2029 سے قبل لوک سبھا نشستوں میں رد و بدل کی اجازت دے سکتی ہے۔ یہ اندیشہ خود اعتماد کے خطرناک زوال کی نشاندہی کرتا ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...