نسائی درد محسوس کرنے والی قلمکار

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 19, 2025365 Views


بانو قدسیہ نے کہا: “میں خوش ہوں کہ نثر لکھنے والی عورتوں میں ثمینہ سید ایک مکمل انسانی اور تخلیقی شعور کے ساتھ ابھر رہی ہیں۔ موضوعات میں تنوع ہے، جمود نہیں۔”

سلمیٰ اعوان کے مطابق: “افسانے کا سحر لکھنے والے کی جادوگری میں ہے، اور ثمینہ اس فن میں ماہر ہیں۔”

ان کے افسانوی مجموعے: ردائے محبت، کہانی سفر میں ہے

شعری مجموعے: ہجر کے بہاؤ میں، سامنے مات ہے

ناول: دل ہی تو ہے

پنجابی مجموعہ: رات نوں ڈکو

ثمینہ کی شاعری میں روایتی اور جدید اسلوب کا حسین امتزاج ہے۔ وہ چاند، خزاں، پتوں جیسی علامتوں کو عصری تناظر میں برتتی ہیں۔مثلاً:

قحط سالی سی قحط سالی ہے

دل تری یاد سے بھی خالی ہے

دیکھ تو آسماں کے بستر پر

چاند میری طرح سوالی ہے

یا پھر:

“آسماں والے کچھ خبر بھی ہے

بھوک اگنے لگی ہے کھیتوں میں”

نظم اُسے کہنا میں وہ کہتی ہیں:

خزاں کے زرد پتوں کا

کوئی سایہ نہیں ہوتا

بہت بے مول ہو کر جب

زمیں پر آن گرتے ہیں

تو یخ بستہ ہوائیں بھی

انہی کو زخم دیتی ہیں

نثر ہو یا نظم، ثمینہ سید کو پڑھ کر قاری کو طمانیت اور جمالیاتی مسرت کا احساس ہوتا ہے۔

ان کا تخلیقی سفر جاری ہے — مسلسل اور معیاری۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...