نئی دہلی: 2026 جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے ارکان نے ملک کے موجودہ حالات کے حوالے سے ایک متفقہ بیان جاری کیا ہے۔ اس سلسلے میں 11 جون 2026ء کو جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عمل کا ایک خصوصی اجلاس صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک کی موجودہ صورتِ حال سے متعلق تجویز کا مسودہ پیش کیا گیا، جس پر تفصیلی غور و خوض کے بعد اسے منظور کر لیا گیا۔ بعد ازاں مذکورہ تجویز مجلس عاملہ کے تمام ارکان کی خدمت میں توثیق کے لیے پیش کی گئی، جس کی ارکان نے متفقہ طور پر توثیق فرمائی۔
ارکان مجلس عاملہ نے ملک کی سنگین صورت حال اور اقلیتوں کے لیے تنگ شدہ ماحول پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح اور دوٹوک انداز میں کہا ہے کہ آج ہمارا ملک نہایت نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں حکومتی ترجیحات اور سماجی رویوں میں جو تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں، وہ نہ صرف ایک مخصوص طبقہ بلکہ پورے جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔ نفرت انگیز بیان بازیوں نے فضا کو مزید مسموم کردیا ہے، مذہبی اشتعال انگیزی جو کبھی سماج کے حاشیے پر سنائی دیتی تھی، آج وہ قومی سیاست اور ارباب اقتدار کے بیانات کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ منافرت اب دھمکی آمیز سیاست کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ ایک منظم سوچ کے تحت اس عظیم جمہوری ملک کی آئینی حیثیت کو بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی تقویت میں عدالت کے رویے کا بھی بڑا کردار ہے۔
ہم نہایت افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ اقلیتوں کی عزت و وقار، عبادت گاہوں، تعلیم گاہوں، قبرستانوں اور مزاروں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ معمولی بہانوں کی آڑ میں ان کے خلاف کارروائیوں اور انہدامی اقدامات کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے۔ ملک کے مختلف حصوں میں غیر عدالتی قتل، مشتبہ انکاؤنٹرزاور قانون سے ماورا کارروائیوں کے واقعات میں نہ صرف اضافہ ہوا ہے بلکہ حکومت اس کی حوصلہ افزائی بھی کررہی ہے جو انتہائی شرمناک ہے۔حکومت اور اس کے کارندے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا تصور انگریز حکومت میں نہیں کیا گیا۔ ان حالات نے ملک کے ایک بڑے طبقے میں یہ احساس پیدا کر دیا ہے کہ اس ملک میں ’اندرونی نوآبادیاتی نظام‘ قائم کیا جا رہا ہے، جہاں دباؤ، محرومی اور مسلسل عدمِ تحفظ کا احساس غالب ہوتا جا رہا ہے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں مذہبی مقامات سے متعلق معاملات کو انصاف، شفافیت اور قانونی تقاضوں کے مطابق نمٹایا جانا چاہیے۔
اسی طرح ووٹنگ کے حق اور انتخابی عمل سے متعلق حالیہ پیش رفت بھی کئی سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔ شہریوں کی شناخت اور شہریت کے نام پر چلنے والی مختلف کارروائیوں نے لاکھوں شہریوں میں بے چینی پیدا کردی ہے۔ یہ تاثر مضبوط ہوتا جارہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد محض انتخابی فہرستوں کی اصلاح نہیں بلکہ مخصوص طبقات کی سیاسی نمائندگی کو محدود کرنا ہے حالاں کہ اگر جمہوریت کے بنیادی ستون یعنی حق رائے دہی کے بارے میں شکو ک و شبہات پیدا ہونے لگیں تو اس کے نتائج دور رس اور خطرناک ہوں گے۔
مزید تشویش ناک امر یہ ہے کہ ملک کے حقیقی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہیں، کسان مشکلات سے دوچار ہیں، مہنگائی عام آدمی کی زندگی کو دشوار بنا رہی ہے، جب کہ تعلیم اور صحت کے شعبے بے شمار چیلنجوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس کے باوجود قومی توجہ بار بار مذہبی تنازعات اور فرقہ وارانہ مباحث کی طرف موڑ دی جاتی ہے۔ قوموں کی توانائی حقیقی مسائل کے حل پر صرف ہونی چاہیے، نہ کہ ایسے تنازعات پر جو معاشرے کو تقسیم کریں اور عوامی توجہ کو بنیادی مسائل سے ہٹا دیں۔ اگر آج کسی ایک طبقے کے حقوق، شناخت اور وقار کو کمزور کیا جا سکتا ہے تو کل یہی طرزِ عمل کسی دوسرے طبقے کے ساتھ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا یہ مسئلہ صرف ایک کمیونٹی تک محدود نہیں، بلکہ ہندوستان کےمستقبل، جمہوری اقدار اور قانون کی بالادستی سے متعلق ایک اہم قومی مسئلہ ہے۔


تاریخ گواہ ہے کہ قومیں نفرت سے نہیں بنتیں، نفرت قوموں کو توڑتی ہے۔ قومیں انصاف سے مضبوط ہوتی ہیں، اعتماد سے آگے بڑھتی ہیں اور مساوات سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر ہم نے آج انصاف، مساوات اور آئینی اقدار کے تحفظ کی اجتماعی کوشش نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔ تاریخ کا تجربہ بتاتا ہے کہ جب معاشرے میں نفرت کو سیاسی طاقت کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے تو اس کی آگ آخرکار پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
لہذا ہم ملک کی تمام سیاسی جماعتوں، ارکانِ پارلیمنٹ، آئینی اداروں، دانشوروں، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ موجودہ حالات کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ یہ وقت خاموش تماشائی بننے کا نہیں بلکہ آئین کے بنیادی اصولوں، جمہوری اقدار اور قومی یکجہتی کے دفاع کا ہے۔ ہم کسی تصادم یا نفرت کی سیاست کے قائل نہیں ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کرنا ضروری ہے کہ خوف، دھمکی اور دباؤکے ذریعہ ہمیں آئینی حقوق سے دستبردار نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اپنے اس عزم پر قائم ہیں جو جمعیۃ علماء ہند نے 2015ء میں منعقد اپنے اجلاس عام میں یہ واضح کردیا تھا کہ ’’نہ ہم کسی سے ڈریں گے،نہ مشتعل ہوکر حد سے گزریں گے‘‘۔
ہم پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہندستان کا مسلمان کسی خصوصی رعایت یا انفرادی سلوک کا طالب نہیں ہے۔ اس کا مطالبہ صرف اتنا ہے کہ اسے وہی عزت، وہی تحفظ اور وہی حقوق حاصل ہوں جو اس ملک کے ہر شہری کو آئین ہند نے دیا ہے۔ لیکن جب کوئی طبقہ مسلسل اپنے وجود، شناخت اور حقوق کے بارے میں فکر مند رہنے لگے تو یہ صرف اس طبقے کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ پورے جمہوری نظام پر ایک سنجیدہ سوال بن جاتا ہے۔
لہٰذا ہم ملک کی حکومت، وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ، پارلیمنٹ کے ممبران، عدلیہ، میڈیا اور تمام بااثر طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ نفرت اور تقسیم کے بڑھتے ہوئے رجحان کو محض سیاسی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔ یہ ملک کی سماجی ہم آہنگی، قومی اتحاد اور آئینی مستقبل کا معاملہ ہے۔ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان کی اصل طاقت اس کے آئین، جمہوری اداروں، مذہبی و ثقافتی تنوع اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق میں مضمر ہے۔ ملک کا مستقبل اسی وقت محفوظ ہو سکتا ہے جب ہر شہری بلا خوف و امتیاز خود کو اس ملک کا برابر کا شریک محسوس کرے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت واضح اور دو ٹوک انداز میں نفرت انگیز تقاریر، مذہبی اشتعال انگیزی اور فرقہ وارانہ سیاست کے خلاف سخت اقدامات کرے، تاکہ کسی بھی شہری کو اس کے مذہب، عقیدے یا شناخت کی بنیاد پر خوف زدہ یا غیر محفوظ محسوس نہ کرنا پڑے۔ہم پورے اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اگر نفرت، خوف اور تقسیم کو سیاسی طاقت کا ذریعہ بننے دیا گیا تو نقصان کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پورے ملک کا ہوگا۔ لہذا ہم اختلافات کے باوجود آئین، انصاف، مساوات اور باہمی احترام کے مشترکہ اصولوں پر متحد ہوں، کیونکہ یہی ہندوستان کے محفوظ، مستحکم اور باوقار مستقبل کی ضمانت ہے۔
ایک دوسری اور اہم تجویز میں مجلس عاملہ جمعیۃ علماء ہند نے ملک کے بعض حصوں میں غیر قانونی دراندازی اور آبادیاتی تبدیلیوں کے نام پر چلائی جانے والی سرگرمی پر شدید تشویش اور اضطراب کا اظہار کیا ہے، جن کے نتیجے میں ایک مخصوص مذہبی اقلیت کے خلاف خوف، نفرت، بدگمانی اور عدم اعتماد کی فضا پیدا کی جا رہی ہے۔ بالخصوص آسام، مغربی بنگال، اتر پردیش اور اتراکھنڈ میں اس عنوان کے تحت یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ اقلیتی برادریاں ملک کی آبادیاتی ساخت، ثقافتی شناخت اور قومی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔ جمعیۃ علماء ہند کا موقف ہے کہ اس نوع کی سرگرمیاں نہ صرف سماجی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ آئینِ ہند میں مضمر مساوی شہریت، انصاف اور برابری کے اصولوں کو بھی کمزور کر رہی ہیں-
مرکزی وزارتِ داخلہ خود پارلیمنٹ میں یہ اعتراف کر چکی ہے کہ ملک میں غیر قانونی دراندازوں کی کوئی مصدقہ اور حتمی تعداد موجود نہیں ہے۔ اس کے باوجود مذکورہ ریاستوں کے بعض وزرائے اعلیٰ نیز سیاسی و انتظامی حلقوں کی جانب سے غیر مصدقہ، مبالغہ آمیز اور قومی اعداد و شمار سے متصادم دعوے پیش کرکے ایک مخصوص طبقے کو مشتبہ بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے۔مزید برآں ’’پش بیک‘‘ اور اسی نوعیت کی دیگر کارروائیوں کو بھی فروغ دیا جا رہا ہے۔ متعدد معاملات میں سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد ملک سے باہر بھیجے گئے افراد کو واپس لانے کی ہدایات جاری کی گئیں، جس سے ان کارروائیوں میں سنگین قانونی اور انسانی حقوق سے متعلق خامیوں کا انکشاف ہوتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ عدالتی مداخلتوں کے باوجود متعلقہ حکومتوں اور انتظامیہ کے طرزِ عمل میں مطلوبہ تبدیلی دیکھنے میں نہیں آئی۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ بعض علاقوں میں اقلیتوں کو ’دیگر‘ سمجھنے اور انہیں درانداز اور خطرہ کے طور پر پیش کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے جو آئینی اقدار اور قانون کی حکمرانی کے سراسر منافی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند یہ واضح کرتی ہے کہ وہ غیر قانونی دراندازوں کی ہرگز حامی نہیں ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سرحدی تحفظ کو یقینی بنائے، شہریت سے متعلق قوانین پر مؤثر عمل درآمد کرے اور غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ تاہم کسی مذہبی یا لسانی گروہ یا کسی کمزور طبقے کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرانا یا اصلی شہری کومخص شناخت کی بنیاد پر ہراساں کرنا ناقابلِ قبول ہے۔ ہر فرد کے معاملے کا فیصلہ انفرادی ذمہ داری، مستندشواہد، منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
لہٰذا جمعیۃ علماء ہند حکومتِ ہند اور تمام ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ غیر قانونی دراندازی سے متعلق تمام کارروائیاں مکمل شفافیت، قانونی تقاضوں اور عدالتی اصولوں کے مطابق انجام دی جائیں۔پش بیک کو اسٹنٹ کے بجائے سنجیدہ قانونی عمل کے طور پر انجام دیا جائے۔کسی بھی شہری کے خلاف مذہب، زبان، نسل، لباس یا علاقائی شناخت کی بنیاد پر پروفائلنگ اور امتیازی کارروائیوں کو فوری طور پر روکا جائے۔آبادیاتی تبدیلیوں اور دراندازی کے مسئلے کو سیاسی یا انتخابی مفادات کے لیے ہر گز استعمال نہ کیا جائے اور عوامی عہدوں پر فائز افراد ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی طرزِ گفتگو اختیار کریں۔نفرت، سماجی بائیکاٹ اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو فروغ دینے والے عناصر کے خلاف بلا امتیاز قانونی کارروائی کی جائے۔
اس موقع پر مجلس عاملہ کی طرف سے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ پر بھی پیش کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ ملک کی مذکورہ بالا صورتِ حال کے پیشِ نظر ہم درج ذیل مطالبات پیش کرتے ہیں:
-
مذہب، ذات، نسل، زبان یا شناخت کی بنیاد پر ہونے والے تشدد، لنچنگ، نفرت انگیز حملوں، منظم ہراسانی اور نفرت انگیز تقاریر کی روک تھام کے لیے سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ رہنما ہدایات (Guidelines) پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
-
فرقہ وارانہ فسادات، نسل کشی یا ماب لنچنگ کی صورت میں متعلقہ انتظامیہ کو جواب دہ بنایا جائے۔ غفلت، غیر ذمہ داری یا جانبداری ثابت ہونے پر متعلقہ افسران کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے اور متاثرین کو مناسب معاوضہ، قانونی تحفظ اور بازآبادکاری فراہم کی جائے۔ نیز فاسٹ ٹریک عدالتوں کے ذریعے ایسے مقدمات کو کم سے کم مدت میں نمٹانے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے۔
-
تعلیم، روزگار، ہنرمندی اور سرکاری اداروں میں پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں، تاکہ تمام شہریوں کو بلا امتیاز ترقی، شرکت اور باوقار زندگی کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔
-
دستورِ ہند کے تحت حاصل مذہبی آزادی، عبادت گاہوں، اقلیتوں کے تعلیمی حقوق اور ان کے مذہبی اداروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ نیز آئین کی جانب سے فراہم کردہ حقوق کو انتظامی یا قانونی بہانوں کے ذریعے محدود یا پامال نہ کیا جائے۔
-
انتخابی فہرستوں، شہریت اور شناخت سے متعلق تمام کارروائیوں میں شفافیت، غیر جانب داری اور آئینی تقاضوں کی مکمل پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ نیز این آرسی اور فارنر ز مقدمات میں کسی بھی شہری کو مکمل قانونی عمل، مؤثر سماعت اور دستیاب قانونی حقوق کے استعمال کا موقع فراہم کیے بغیر غیر ملکی قرار دے کر جبری طور پر ملک بدر کرنے کے عمل پر روک لگائی جائے، کیونکہ اس سے نہ صرف بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوتے ہیں بلکہ ملک کی عالمی ساکھ اور نیک نامی کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
-
حکومتِ ہند اپنی تاریخی خارجہ پالیسی، بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے اصولوں کے مطابق فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کی ہر سطح پر حمایت کرے اور اس سلسلے میں مؤثر سفارتی کردار ادا کرے۔ نیز حکومت اسرائیل کے ساتھ فوجی، جنگی یا دفاعی تعاون اور معاہدات پر ازسرِ نو غور کرے تاکہ ہندوستان کا موقف انصاف، امن اور انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے مطابق برقرار رہے۔
مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا محمود اسعد مدنی (صدر جمعیۃ علماء ہند)، مولانا محمد حکیم الدین قاسمی (ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند)، مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی (مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مولانا رحمت اللہ میر (صدر مجلس قائمہ جمعیۃ علماء ہند)، مولانا قاری شوکت علی (خازن جمعیۃ علماء ہند)، مولانا مفتی سید محمد سلمان منصورپوری (ناظم عمومی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند)، مولانا مفتی محمد راشد اعظمی (نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند)، مولانا عبداللہ معروفی (استاذ دارالعلوم دیوبند)، مفتی سید محمد عفان منصورپوری (صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش)، مولانا نیاز احمد فاروقی (سکریٹری جمعیۃ علماء ہند)، مولانا کلیم اللہ قاسمی (نائب صدر جمعیۃ علماء اتر پردیش)، مفتی شمس الدین بجلی قاسمی (جنرل سکریٹری جمعیۃعلماءکرناٹک)، مولانا یحییٰ کریمی (ناظمِ اعلیٰ جمعیۃ علماء ہریانہ، پنجاب و ہماچل پردیش) سمیت دیگر منتخب ارکان شریک ہوئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































