مدھیہ پردیش کے چھترپور ضلع میں کین-بیتوا لنک پروجیکٹ کے سبب نقل مکانی کا سامنا کر رہے قبائلی طبقہ کے صبر کا باندھ اب ٹوٹ چکا ہے۔ طویل مدت سے چل رہے احتجاجی مظاہرہ نے آج کئی محاذ پر ایک ساتھ شدت اختیار کر لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ انتظامیہ کی فکر میں بھی مزید اضافہ ہو چکا ہے۔ متاثرہ دیہی عوام نے کین ندی میں اتر کر ’جل ستیاگرہ‘ کیا اور گھنٹوں پانی میں کھڑے رہ کر یہ پیغام دیا کہ جس ندی کو ترقی کی بنیاد بتایا جا رہا ہے، وہی آج ان کے وجود پر بحران بن گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ’مٹی ستیاگرہ‘ کا سلسلہ بھی آج دوسرے دن جاری رہا۔ دیہی عوام نے اپنے کھیتوں کی مٹی ہاتھ میں لے کر یہ عزم دہرایا کہ وہ اپنے آبا و اجداد کی زمین کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔
قبائلی طبقہ کی فکر قابل غور بھی ہے، کیونکہ انھیں کئی طرح کے مسائل کا سامنا ہے۔ یہی سبب ہے کہ دیہی عوام نے گزشتہ 10 دنوں سے جاری ’چِتا آندولن‘ (میت تحریک) کو بھی مزید شدت دے دی ہے۔ لوگ علامتی طور پر چِتاؤں کے پاس بیٹھ کر اپنے درد اور تکلیف کو ظاہر کر رہے ہیں۔ اس تحریک کی حمایت میں کئی گاؤں میں چولہا بند رکھا گیا ہے۔ دیہی عوام نے اجتماعی طور پر کھانا چھوڑ دیا ہے۔ خواتین، بزرگ اور بچے بھوکے رہ کر اپنے مطالبات کے تئیں یکجہتی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ سبھی یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کی آواز ریاست اور مرکزی حکومت تک پہنچے گی۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے متاثرہ قبائلیوں اور کسانوں نے انتظامیہ پر کچھ سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پروجیکٹ کے لیے جن گرام سبھاؤں کا حوالہ دیا جا رہا ہے، وہ پوری طرح فرضی ہیں۔ دیہی عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ ان سبھاؤں کو منظر عام پر لایا جائے، تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔ ان کا الزام یہ بھی ہے کہ انتظامیہ بغیر مناسب طریقہ اختیار کیے لوگوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
سماجی کارکنان نے دفعہ 31 اور نقل مکانی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب تک مکمل معاوضہ اور بازآبادکاری یقینی نہیں ہوتی، تب تک کسی کو ہٹایا نہیں جا سکتا۔ اس کے باوجود انتظامیہ کی کارروائی جاری ہے، جس سے لوگوں میں غصہ بڑھ رہا ہے۔ دیہی عوام کا یہ بھی الزام ہے کہ گاؤں میں دلال فعال ہو چکے ہیں، جو معاوضے کی رقم میں تخفیف کر رہے ہیں اور مختلف دستاویزات کے نام پر ناجائز وصولی کی جا رہی ہے۔
سماجی کارکن امت بھٹناگر نے انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ افسران زمینی حقیقت سے دور رہ کر صرف کاغذی کارروائی پوری کر رہے ہیں۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ترقی کے نام پر قبائلیوں کا استحصال منظور نہیں کیا جائے گا، اور اگر سب کچھ شفاف نہیں رکھا گیا تو تحریک کو مزید شدت دی جائے گی۔ اس درمیان انتظامیہ اور متاثرین کے درمیان بات چیت بھی بے نتیجہ ثابت ہوئی ہے۔ مظاہرین کے اہم مطالبات میں شفاف سروے، قانونی دائرے میں عوامی سماعت اور بغیر کٹوتی کے سیدھے معاوضہ کی ادائیگی شامل ہیں۔
موجودہ صورت حال کو دیکھ کر صاف پتہ چلتا ہے کہ تحریک اب مزید شدت اختیار کرنے والی ہے۔ انتظامیہ کے مایوس کن رویہ سے ناراض دیہی عوام نے علامتی پھانسی جیسے احتجاجی مظاہرہ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ اس عمل کے ذریعہ وہ اپنے مشکل حالات کو ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔ فی الحال گاؤں میں سناٹا پسرا ہے، لیکن مظاہرہ کے مقامات پر بڑی تعداد میں لوگ جمع ہیں، جو اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔
































