مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کو تقریباً ایک ماہ ہونے والا ہے، لیکن ابھی تک کابینہ کی مکمل تشکیل نہیں ہو سکی ہے۔ اب تک صرف 5 وزراء نے حلف لیا ہے، جن میں دلیپ گھوش، اگنی مترا پال، نشیت پرمانک، اشوک کیرتنیا اور خودی رام ٹوڈو شامل ہیں۔ کئی وزارتیں ایسی ہیں، جن کے لیے وزراء کی حلف برداری کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب کابینہ میں توسیع کے حوالے سے سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ پیر یعنی آج ریاستی کابینہ میں توسیع کی جائے گی۔
کابینہ کی توسیع میں تپس اور سوپن کے علاوہ تقریباً 35 اراکین اسمبلی کو شامل کیا جائے گا۔ صبح تقریباً 11 بجے یہ اراکین وزارتی عہدے کا حلف لیں گے۔ ممکنہ نئے وزراء کی فہرست میں کئی نام زیر بحث ہیں، جن میں سوپن داس گپتا کا نام سرفہرست بتایا جا رہا ہے۔ بی جے پی کے سینئر لیڈر سوپن داس گپتا راش بہاری حلقے سے رکن اسمبلی ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ خبر گرم ہے کہ انہیں کابینہ میں کوئی اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری پہلے ہی انہیں محکمۂ تعلیم کی ذمہ داری دے چکے ہیں۔ ایسے میں ماہرین کا ماننا ہے کہ سوپن داس گپتا کو وزیر تعلیم بنایا جا سکتا ہے۔
بی جے پی کے رکن اسمبلی تپس رائے کو بھی اہم وزارت ملنے کا امکان ہے۔ اس بار تجربہ کار سیاست داں نے مانک تلا اسمبلی حلقے سے کامیابی حاصل کی ہے۔ نئی حکومت کے قیام کے بعد انہوں نے قائم مقام اسپیکر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ نئے اسپیکر کے انتخاب تک وہ اسمبلی کی کارروائی چلا رہے ہیں۔ انہوں نے نو منتخب اراکین اسمبلی کو حلف بھی دلایا ہے۔ ممکنہ کابینہ وزراء کی فہرست میں شنکر گھوش، رودرنیل گھوش، شردوت ٹوڈو، پرنت ٹوڈو، روپا گنگوپادھیائے، کلیان چکرورتی، چندنا باؤری، جگن ناتھ چٹرجی، اشوک ڈنڈا اور سبرت میترا کے نام بھی شامل ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ اب تک 5 وزراء کو کچھ اہم ذمہ داریاں تقسیم کی جا چکی ہیں۔ دلیپ گھوش کو پنچایت و دیہی ترقی، مویشی پروری و ترقیات اور زرعی مارکیٹنگ کے محکموں کا وزیر بنایا گیا ہے۔ اگنی مترا پال کو خواتین و اطفال کی بہبود اور شہری و دیہی ترقی کی وزارت سونپی گئی ہے۔ اسی طرح نشیت پرمانک کو شمالی بنگال ترقیات اور کھیل محکمہ کا چارج دیا گیا ہے۔ اشوک کیرتنیا کو محکمۂ خوراک کی ذمہ داری دی گئی ہے، جبکہ خودی رام ٹوڈو کو پسماندہ طبقات کی بہبود اور اقلیتی امور کے محکمے کا وزیر مقرر کیا گیا ہے۔



































