
قابل ذکر ہے کہ ہندوستان دنیا میں سونا استعمال کرنے والے سب سے بڑے ممالک میں سے ایک ہے اور اسے چین کے بعد سونے کا دوسرا بڑا خریدار سمجھا جاتا ہے۔ ملک میں ہر سال تقریباً 700 سے 800 ٹن سونے کی مانگ رہتی ہے، جبکہ گھریلو پیداوار صرف 1 سے 2 ٹن کے آس پاس ہے۔ یعنی ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً 90 فیصد سونا بیرون ممالک سے درآمد کرتا ہے۔ سونے کی درآمد کی ادائیگی ڈالر میں کی جاتی ہے، اس لیے زیادہ درآمد کا اثر براہ راست غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر پر پڑتا ہے۔ مالیاتی سال 26-2025 میں ہندوستان کی گولڈ امپورٹ بڑھ کر تقریباً 72 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جو گزشتہ مالیاتی سال کے 58 ارب ڈالر کے مقابلے میں قریب 24 فیصد زیادہ ہے۔





