سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخاب پر راہل گاندھی کا اختلافی نوٹ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 13, 2026359 Views


سی بی آئی ڈائریکٹر کے انتخابی عمل پر اختلافی نوٹ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ قائد حزب اختلاف کوئی ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بار بار مطالبے کے باوجود انہیں سی بی آئی ڈائریکٹر کے عہدے کے امیدواروں کی 360 ڈگری رپورٹ فراہم نہیں کی گئی، اور اجلاس کے دوران ہی 69 امیدواروں کی تفصیلات دی  گئیں۔

قائد حزب اختلاف راہل گاندھی (تصویر: پی ٹی آئی/ آر سینتھل کمار)

نئی دہلی:لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے منگل (12 مئی) کو مرکزی تفتیشی ایجنسی (سی بی آئی) کے ڈائریکٹر کے انتخاب کے طریقہ کار پر اعتراض کرتے ہوئے ایک اختلافی نوٹ جمع کرایا۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف ’ربڑ اسٹیمپ‘نہیں ہیں اور یہ انتخابی عمل ایک ایسے’مذاق‘میں تبدیل کر دیا گیا ہے جس کا مقصد صرف’پہلے سے طے شدہ امیدوار‘کے انتخاب  کویقینی بنانا ہے۔

گاندھی نے کہا کہ وہ اس’جانبدارانہ عمل‘کا حصہ بن کر اپنے آئینی فرائض سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔

وزیر اعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف پر مشتمل انتخابی کمیٹی کا اجلاس منگل کو نئی دہلی میں ہوا۔ اپنے نوٹ میں گاندھی نے کہا کہ بار بار تحریری مطالبے کے باوجود انہیں اہل امیدواروں کی سیلف اپریزل رپورٹ یا 360 ڈگری رپورٹ پہلے سے فراہم نہیں کی گئیں۔ اجلاس کے دوران انہیں 69 امیدواروں کی تفصیلات دی گئیں۔

گاندھی کے اختلافی نوٹ میں کہا گیا،’مجھے 360 ڈگری رپورٹ دینے سے مکمل طور پر انکار کر دیا گیا۔ ہر امیدوار کی تاریخ اور کارکردگی کے جائزے کے لیے ان دستاویز کا تفصیلی مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ بغیر کسی قانونی بنیاد کے جانکاری فراہم کرنے سے دانستہ انکار کرنا انتخابی عمل کو مذاق بنا دیتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ صرف آپ کا پہلے سے طے شدہ امیدوار ہی منتخب ہو۔‘

گاندھی نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ سال 5 مئی کو ہونے والے اجلاس میں بھی اپنےاعتراضات درج کروائے تھے اور 21 اکتوبر کو کمیٹی کو خط لکھ کر شفاف عمل کے لیے تجاویز بھی دی تھیں، لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا،’انتخابی کمیٹی کو اہم معلومات سے محروم کر کے حکومت نے اسے محض ایک رسمی کارروائی بنا دیا ہے۔ قائدحزب اختلاف کوئی ربڑ اسٹیمپ نہیں ہے۔ میں اس جانبدارانہ عمل میں حصہ لے کر اپنے آئینی فرض سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔‘

اپنے نوٹ میں گاندھی نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت نے ’باربار ‘ سی بی آئی کو’سیاسی مخالفین، صحافیوں اور ناقدین کو نشانہ بنانے’ کے لیے استعمال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیٹی میں قائدحزب اختلاف کو شامل کرنے کا مقصد’ادارہ جاتی قبضے کو روکنا‘ہے۔

انہوں نے کہا،’افسوس کی بات ہے کہ آپ نے مجھے اس عمل میں کوئی بامعنی کردار دینے سے مسلسل انکار کیا ہے۔‘



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...