
سوشیلا کارکی کے ہاتھوں میں نیپال کی باگ ڈور دینے کے پیچھے کئی عوامل شامل ہیں۔ وہ نوجوان طبقہ میں مقبول تو ہیں ہی، ملک کی سابق چیف جسٹس بھی رہ چکی ہیں۔ خاتون طبقہ میں انھیں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ باشعور شخصیت ہیں۔ اسی لیے انھیں آنے والے کچھ مہینوں تک ملک کی قیادت کرنے کا موقع دیا گیا۔ حلف برداری کے بعد صدر رام چندر پوڈیل نے ان سے کہا کہ ’’ملک کو بچائیے، کامیاب رہیے۔‘‘ اس پر سوشیلا نے صرف ’’شکریہ‘‘ کہا۔ غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ان کی حلف برداری تقریب کا پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے سربراہوں نے بائیکاٹ کیا۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر دیوراج گھمیری، جو سابق وزیر اعظم اولی کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بھی تقریب میں شریک نہیں ہوئے۔ اسی طرح دوسرے ایوان کے چیئرمین نرائن دَہال، جو پرچنڈ کی پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں، وہ بھی غیر حاضر رہے۔





