امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ سے متعلق چل رہی بات چیت ٹھنڈے بستے میں جاتی ہوئی محسوس ہو رہی ہے۔ آبنائے ہرمز میں امریکی ہیلی کاپٹر اپاچے پر حملہ نے ایک بار پھر کشیدگی میں اضافہ کر دیا ہے، اور یہ کشیدگی اب جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ اپاچے مار گرائے جانے کے بعد امریکہ اور تہران کے درمیان ایک بار پھر حملے شروع ہو گئے ہیں۔ امریکہ نے جنگی طیاروں سے ایران کے قشم اور اصفہان سمیت تقریباً 8 شہروں پر ایئر اسٹرائیک کی۔ تہران نے بھی ان حملوں پر جوابی حملہ کر دیا ہے۔ آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکہ کی پانچویں فلیٹ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ ایران کے ذریعہ کویت اور اردن میں امریکی ٹھکانوں پر حملہ کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ کے ذریعہ ایرانی شہروں پر کیے گئے ایئر اسٹرائیک سے حالات انتہائی کشیدہ ہو گئے ہیں۔ قشم جزیرہ میں 6 دھماکے ہوئے ہیں، جبکہ سیریک جزیرہ پر پانی کے 2 پلانٹ تباہ ہو گئے ہیں۔ ہرمز خطہ میں بھی امریکی جنگی طیاروں سے حملہ کیا گیا ہے اور جسک شہر، بوشہر، اصفہان میں بھی حملے ہوئے ہیں۔ بندر عباس میں کئی دھماکے ہوئے ہیں اور اہواز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اہواز خزستان خطہ کا شہر ہے، جسے آئل کیپٹل کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس درمیان خبر رساں ایجنسی سنہوا نے ایرانی میڈیا کے حوالہ سے بتایا ہے کہ 10 جون کی علی الصبح جنوبی ایران کے بندر عباس، قشم جزیرہ، سیریک کاؤنٹی اور جسک کاؤنٹی میں کئی دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں، اور ایئر ڈیفنس سسٹم بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ سیریک، قشم جزیرہ اور جنوبی شہری میناب میں بھی 6 دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔ ان سبھی علاقوں میں امریکی جنگی طیاروں نے حملے کیے ہیں۔
امریکہ کی اس کارروائی کے بعد ایران کی اسلامک ریوولوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی ٹھکانوں پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل سے حملے کیے ہیں۔ کم از کم 4 بیلسٹک میزائلیں اور کئی ڈرون امریکی ٹھکانوں کی طرف داغے گئے۔ اس حملہ کے بعد پورے خلیجی خطہ میں ایئر ڈیفنس سسٹم فعال کر دیے گئے اور کئی مقامات پر دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































