
علامتی تصویر (فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:مغربی ایشیا میں جاری بحران کے باعث عالمی سطح پر ایل پی جی کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کے بعد مرکزی حکومت نے پردھان منتری اجولا یوجنا (پی ایم یو وائی) کے مستفیدین کے لیے رعایتی قیمتوں پر دستیاب گیس سلنڈروں کی سالانہ تعداد نو سے گھٹا کر صرف چار کر دی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اس کمی کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا تھا، اور فی الحال یہ بھی واضح نہیں ہے کہ یہ فیصلہ عملی طور پر کب سے نافذ ہوا ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، گھریلو ایل پی جی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے حوالے سے جاری ایک پریس بیان میں یہ جانکاری اتوار (7 جون) کو سامنے آئی۔
واضح ہو کہ اتوار کو حکومت نے فی سلنڈر 29 روپے اضافے کا اعلان کیا تھا۔ مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد یہ دوسری بار تھا جب گھریلو گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔ اس سے پہلے ہونے والے اضافے کو شامل کیا جائے تو اب تک گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی قیمت مجموعی طور پر 89 روپے بڑھ چکی ہے۔
دہلی میں اس وقت 14.2 کلوگرام والے ایک سلنڈر کی قیمت 942 روپے ہے۔
رپورٹ کے مطابق،پی ایم یو وائی کے مستفیدین کو مرکزی حکومت کی جانب سے فی سلنڈر 300 روپے کی اضافی سبسڈی ملتی ہے، جس کے باعث انہیں صرف 642 روپے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
سبسڈی والے ری فل کی تعداد میں کمی کے بارے میں پوچھے جانے پر وزارت پیٹرولیم کے ایڈیشنل سکریٹری پروین کھانوجا نے اس فیصلے کا دفاع کیا۔
اخبار کے مطابق، انہوں نے کہا،’چاہے میں پی ایم یو وائی کا صارف ہوں یا نہیں، مجھے ایک سلنڈر 942 روپے میں مل رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی قیمتوں کے مطابق اس کی قیمت 1,600 روپے ہونی چاہیے تھی۔ یہ بھی ایک طرح کی بالواسطہ سبسڈی ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اس کے علاوہ پی ایم یو وائی صارفین کو 300 روپے مزید ملتے ہیں، اس لیے انہیں ہر سلنڈر پر تقریباً 1,000 روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔‘
غور طلب ہے کہ اس اسکیم کا آغاز ملک کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش کے ضلع بلیا سے 1 مئی 2016 کو کیا گیا تھا۔ اس اسکیم کا سیاسی فائدہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو 2017 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں ملا، جہاں پارٹی نے تقریباً ڈیڑھ دہائی بعد مکمل اکثریت کے ساتھ حکومت بنائی۔
اس اسکیم کے آغاز سے لے کر مئی 2026 کے آخر تک ملک بھر میں تقریباً 10.55 کروڑ ایل پی جی کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔






