سلی گوڑی میں ووٹنگ کے دوران ہنگامہ، مرشدآباد میں بھی تصادم کی خبریں

AhmadJunaidJ&K News urduApril 23, 2026359 Views


مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس دوران کئی حلقوں سے تشدد کی خبریں آئی ہیں، خاص طور پر ناؤدا میں ہنگامہ کے بعد الیکشن کمیشن نے رپورٹ طلب کر لی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں حق رائے دہی کے لیے قطار بند ووٹرس، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/ECISVEEP">@ECISVEEP</a></p></div><div class="paragraphs"><p>مغربی بنگال کے سلی گوڑی میں حق رائے دہی کے لیے قطار بند ووٹرس، تصویر ’ایکس‘ <a href="https://x.com/ECISVEEP">@ECISVEEP</a></p></div>

i

user

مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں آج بڑی تعداد میں گھروں سے نکل کر ووٹرس حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ گجرات اور مہاراشٹر کی 3 اسمبلی سیٹوں پر بھی ضمنی انتخاب ہو رہے ہیں۔ اس دوران بنگال میں کچھ مقامات پر تشدد اور ای وی ایم میں تکنیکی خرابی کی خبر نے الیکشن کمیشن کی تیاریوں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ایک طرف ناؤدا میں بم دھماکہ کی خبر سامنے آ رہی ہے، اور دوسری طرف اے یو جے پی اور ٹی ایم سی کارکنان کے درمیان تصادم کے بعد علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی ہے۔ اس معاملہ میں الیکشن کمیشن نے ضلع انتظامیہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔ علاوہ ازیں مالدہ میں ترنمول کانگریس پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ اس نے سی پی ایم حامیوں کو یرغمال بنایا ہے۔ حالانکہ ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ حق رائے دہی کا عمل پُرامن طریقے سے جاری ہے۔

مغربی بنگال میں انتظامیہ کی جانب سے سبھی پولنگ مراکز پر سخت حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں، باوجود اس کے کچھ حلقوں سے تنازعات سامنے آنے کی وجہ سے انتخابی عمل میں رخنہ پڑنے کی خبریں ہیں۔ ریاست میں اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران سلی گوڑی کے جگدیش چندر ودیا پیٹھ  واقع بوتھ نمبر 26/237 پر ووٹنگ ہو رہی تھی کہ اچانک پولنگ بوتھ کے باہر حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بی جے پی کارکنان کے درمیان بحث شروع ہو گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ’معمولی‘ کہا سنی بڑے تنازعہ کی شکل اختیار کر گئی اور فریقین کے درمیان جھڑپ ہونے لگی۔

واردات کے وقت متعلقہ اسمبلی حلقہ کے بی جے پی امیدوار شنکر گھوش بھی موقع پر موجود تھے۔ بوتھ پر تعینات مرکزی مسلح پولیس فورس (سی اے پی ایف) کے جوانوں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے بھیڑ کو منتشر کیا اور صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی۔ کہا جا رہا ہے کہ سیکورٹی فورسیز کی مستعدی کی وجہ سے ایک بڑا ناخوشگوار واقعہ ٹل گیا اور ووٹنگ کا عمل پھر سے منظم طور سے شروع کرایا جا سکا۔ سلی گوڑی کا یہ علاقہ حساس مانا جا رہا ہے اور یہاں سیکورٹی میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مغربی بنگال میں مالدہ واقع موتھاباڑی اسمبلی کے بوتھ نمبر 55 پر کافی دیر تک ووٹنگ شروع نہیں ہونے سے بھی تصادم کے حالات پیدا ہو گئے۔ جب لوگ کافی دیر تک قطار میں لگے رہے اور ووٹنگ شروع نہیں ہوئی، تو انھوں نے ہنگامہ کرنا شروع کر دیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بوتھ پر ترنمول کانگریس اور بی جے پی کارکنان میں تصادم ہو گیا، جس سے بوتھ پر حالات کشیدہ ہو چکے ہیں۔ مرشد آباد میں بھی ووٹنگ کے دوران پرتشدد جھڑپ کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ الزام ہے کہ ٹی ایم سی کارکنان نے عام جنتا اننین پارٹی (اے یو جے پی) کے سربراہ ہمایوں کبیر کے خلاف نعرے بازی کی۔ تصادم کے حالات پیدا ہونے کے بعد موقع پر سیکورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ یہاں ہر طرف بھیڑ نظر آرہی ہے۔ اسی دوران ہمایوں کبیر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے ایک میڈیا ادارے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں دھرنے پر بیٹھا ہوں، یہاں سے ہٹوں گا نہیں۔‘‘ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہمایوں کبیر کی تلخ بحث اور نوک جھونک کے ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں، جس میں صورتحال کافی کشیدہ نظر آ رہی ہے۔ حالانکہ اس تصادم اور تنازعہ کی وجہ ابھی صاف نہیں ہو پائی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...