امریکی وزارت دفاع وائٹ ہاؤس میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) پالیسی کے چیف ایڈوائزر رہے ہندوستانی نژاد سری رام کرشنن جون کے آخر میں عہدے سے دستبردار ہو جائیں گے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے آفس میں اے آئی کی حکمت عملی تیار کرنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے کرشنن نے خود سوشل میڈیا پر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ امریکہ کے سامنے اے آئی سے متعلق بڑے مسائل پر نئی سطح سے کام کریں گے۔ ان کے استعفے کو ٹرمپ انتظامیہ کی ٹیک پالیسی کے لیے بڑی پیش رفت مانا جا رہا ہے۔
سری رام کرشنن نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں کام کرنا ان کی زندگی کا سب سے بڑا اعزاز رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جون کے آخر میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے اور مختصر وقفے کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے لیے اے آئی سے متعلق بڑے ادارہ جاتی کام کریں گے۔ انہوں نے صدر ٹرمپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قیادت کے بغیرامریکہ عالمی اے آئی کی دوڑ میں آگے نہیں ہوتا۔ اپنے 18 ماہ کے دور کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کرشنن نے کہا کہ انہوں نے یو ایس اے آئی ایکشن پلان تیار کرنے میں اہم کردارادا کیا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اے آئی ایکسلریشن پارٹنرشپ، نیشنل اے آئی پالیسی فریم ورک اور اے آئی سے متعلق کئی بین الاقوامی معاہدوں پر کام کیا۔ انہوں نے فرانس، ہندوستان، برطانیہ اور مشرق وسطیٰ میں منعقدہ اے آئی اجلاس کا بھی ذکر کیا۔
سری رام کرشنن ٹرمپ انتظامیہ کی اس ٹیم کا حصہ تھے جس نے امریکہ میں اے آئی سیکٹر کی توسیع کے لیے روڈ میپ تیار کیا۔ مانا جاتا ہے کہ انہوں نے ریاستوں کے اے آئی ریگولیشن اختیارات محدود کرنے والے مجوزہ حکم کو تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان کش دیسائی نے کہا کہ سری رام کرشنن نے اپنے ذاتی کیریئر کو چھوڑ کر امریکہ کی تکنیکی طاقت کو مضبوط بنانے کے لیے بڑا تعاون دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو ٹیکنالوجی اور اختراع میں عالمی قیادت دلانے میں کرشنن کا انتہائی اہم کردار رہا ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے مسلسل اے آئی سیکٹر کو امریکہ کی اسٹریٹجک طاقت قرار دیا ہے۔ چین کے ساتھ بڑھتے ہوئے تکنیکی مقابلے کے درمیان امریکہ تیزی سے اے آئی، ڈیٹا سینٹرز، چپ مینوفیکچرنگ اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ سری رام کرشنن اسی حکمت عملی کے اہم چہروں میں شامل تھے۔ کرشنن نے اپنے بیان میں کہا کہ مستقبل میں توانائی، ڈیٹا سینٹرز اور عام لوگوں تک اے آئی کے فوائد پہنچانا سب سے بڑا چیلنج ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان مسائل پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ نئے اداروں کے ذریعے اس سمت میں تعاون کرنا چاہتے ہیں۔
سری رام کرشنن نے واضح کیا کہ وہ عوامی زندگی سے دستبردار نہیں ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آئی سے متعلق اہم مسائل پر کام جاری رکھیں گے۔ تاہم، انہوں نے اپنے اگلے منصوبے یا ادارے کا انکشاف نہیں کیا۔ ٹیک دنیا میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ اے آئی پالیسی، سرمایہ کاری اور عالمی ٹیک تعاون سے متعلق کسی بڑے پلیٹ فارم کی شروعات کرسکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں، ٹرمپ انتظامیہ کے سینئر رہنماؤں اور اپنی اہلیہ کا بھی شکریہ ادا کیا۔ کرشنن نے کہا کہ اس سفر نے انہیں یہ سکھایا کہ امریکہ کو مضبوط بنانے میں ہر فرد کا کردار ضروری ہے اور یہ آئندہ بھی اسی سمت میں کام کرتے رہیں گے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




































