
ملکارجن کھڑگے مطابق ہندوستان اُس وقت ’وشو گرو‘ تھا جب وہ اپنی اسٹریٹجک خودمختاری برقرار رکھتا تھا اور غیر وابستگی کی پالیسی پر عمل کرتا تھا۔ دنیا ہماری بات سنتی تھی، کیونکہ سابقہ تمام حکومتوں نے مسلسل ایسی پالیسی اختیار کی جس میں کسی کے سامنے جھکنے سے گریز کیا گیا۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’خارجہ پالیسی کے معاملات میں ہندوستانی شہریوں کی جانوں کو بعد کی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔ ایسے وقت میں جب کئی سنگین سوالات کے جواب ابھی باقی ہیں، خاموشی جواب دہی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ قوم حقیقت جاننے کی حقدار ہے اور متاثرہ خاندان انصاف کے مستحق ہیں۔‘‘





