لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے سی بی ایس ای کی بارہویں جماعت کے ’آن اسکرین مارکنگ‘ (او ایس ایم) نظام سے متعلق بے ضابطگیوں کو لے کر مرکزی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مودی-پردھان کی جوڑی نے ایک اور ادارے کو دھاندلی کی علامت بنا دیا۔ دہائیوں میں پہلی بار سی بی ایس بورڈ امتحان پر اتنے سنگین سوالات اٹھے ہیں۔ 18.5 لاکھ بچوں نے امتحان دیا – اور ایک ہفتے سے او ایس ایم، غلط مارکنگ اور جانچ میں گڑبڑی کی شکایتیں ان سنی کر دی گئی ہیں اور وزیر تعلیم اپنی کرسی سے چپکے ہوئے ہیں۔‘‘
راہل گاندھی اپنی پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’ایک 17 سال کا بچہ، جس کی کاپی غلط جانچی گئی، انصاف کی امید میں سوشل میڈیا پر آیا۔ مگر اسے مدد نہیں گالیاں ملیں – بی جے پی کے آئی ٹی سیل نے اسے اینٹی نیشنل کہا، سوروس کا ایجنٹ کہا اور ڈیپ اسٹیٹ کا حصہ کہا۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’ایک 17 سال کا بچہ اپنے مستقبل کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور یہ بی جے پی اسے غدار قرار دیتی ہے۔ سچ یہ ہے – مودی حکومت نوجوانوں اور جین زی سے ڈرتی ہے، کیونکہ وہ اب سوال پوچھ رہے ہیں۔ اور جو سوال پوچھے، اسے یہ حکومت بدنام کرتی ہے، ڈراتی ہے اور کچلتی ہے۔ لیکن سن لیجیے مودی جی – یہی نوجوان، یہی جین زی آپ کا گھمنڈ توڑے گا۔‘‘
راہل گاندھی کے علاوہ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے بھی سی بی ایس ای معاملے کو لے کر مودی حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’سی بی ایس ای نے بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے لیے آن اسکرین مارکنگ سسٹم (او ایس ایم) نافذ کیا، جس کی وجہ سے ملک بھر کے لاکھوں بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بارہویں جماعت کا کامیابی کا فیصد غیر معمولی طور پر 3 فیصد گر گیا ہے (88 فیصد سے گھٹ کر 85 فیصد) اور پورا عمل بے ضابطگیوں سے بھرا رہا ہے – دھندلی اور نہ پڑھی جانے والی جوابی کاپیاں، غلط جانچ، طلبہ کو دوسرے بچوں کی کاپیاں الاٹ ہونا، ادائیگیوں میں تاخیر، اور طلبہ سے دوبارہ جانچ کے نام پر بھاری فیس کا مطالبہ۔‘‘
کانگریس لیڈر جے رام رمیش اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ ’’اب وزیر تعلیم، جو پورے ادارہ جاتی نظام کی تباہی کی قیادت کر رہے ہیں، اس سانحے کے سامنے آنے کے ایک ہفتے سے زیادہ وقت گزر جانے کے بعد بالاآخر جاگ گئے ہیں۔ وہ اب آئی آئی ٹی کانپور کو ان تکنیکی مسائل کے حل کے لیے شامل کر کے خود کو کسی نجات دہندہ کی طرح پیش کر رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ ان مسائل کا پہلے سے اندازہ کیوں نہیں لگایا گیا؟ او ایس ایم نظام کو اپنانے سے پہلے سی بی ایس ای اور وزارت نے احتیاط کے ساتھ منصوبہ بندی کیوں نہیں کی؟ اس مسئلے پر ردعمل دینے میں وزیر کو اتنا وقت کیوں لگا؟‘‘
جے رام رمیش کے مطابق وزیر تعلیم پردھان پر ملک کا ان کا استعفیٰ ادھار ہے اور وزیر اعظم پر یہ جواب واجب الادا ہے کہ ’’آخر ان وزیر صاحب کو – جو اپنی نااہلی سے کھلے عام ہندوستان کے طلبہ کا مستقبل برباد کر رہے ہیں – اتنی طویل مدت تک عہدے پر برقرار رہنے کی اجازت کیوں دی گئی؟‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































