تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ اے ریونت ریڈی، نائب وزیر اعلیٰ ملو بھٹی وکرمارک اور ریاستی کانگریس صدر مہیش گوڑ نے اتوار کو کانگریس کے قومی صدر ملکارجن کھڑگے سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات شمس آباد میں واقع نوووٹیل ہوٹل میں کھڑگے سے ملاقات کی۔ یہ ہوٹل راجیو گاندھی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب واقع ہے۔ اس میٹنگ میں تلنگانہ کانگریس کی انچارج میناکشی نٹراجن بھی موجود تھیں۔ واضح رہے کہ ملکارجن کھڑگے نئی دہلی سے کرناٹک کے گلبرگہ جاتے ہوئے حیدرآباد میں رکے تھے۔
وزیراعلیٰ کے دفتر (سی ایم او) نے اس ملاقات کو ایک رسمی ملاقات قرار دیا ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق یہ میٹنگ تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی، جس میں ریاست کی موجودہ سیاسی صورتحال اور حکومت کے مختلف منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسی درمیان وزیراعلیٰ کے دفتر نے اتوار کو جاری کردہ ایک بیان میں بتایا کہ وزیراعلیٰ ریونت ریڈی پیر کے روز افسران کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کریں گے۔ یہ اجلاس ریاستی ملازمین اور پنشنرز کو ہیلتھ کور فراہم کرنے کے لیے شروع کی جانے والی ’ایمپلائز ہیلتھ اسکیم‘ کے نفاذ کے حوالے سے ہوگا۔
یہ منصوبہ ایمپلائز ہیلتھ کیئر ٹرسٹ کے ذریعے نافذ کی جائے گی۔ ٹرسٹ میں کل 8 اراکین ہوں گے، جن میں 6 ملازمین کی تنظیموں اور 2 پنشنرز کی تنظیموں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ ٹرسٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ریاستی حکومت کے ایک ملازم ہوں گے۔ اس کمیٹی کی تشکیل کا اعلان پیر کے روز کیا جا سکتا ہے۔ اس منصوبہ کو نافذ کرنے کے لیے ضروری معلومات اکٹھا کرنے کا عمل پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔ محکمہ مالیات نے تمام سرکاری محکموں کو ملازمین، پنشنرز اور ان کے اہل خانہ کی تفصیلات جمع کرنے کی ہدایت دی ہے۔
جاری کردہ سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ معلومات 31 مئی تک اپ لوڈ کر دی جانی چاہئیں۔ اسی بنیاد پر حکومت ڈیجیٹل ہیلتھ کارڈ جاری کرے گی اور کیش لیس طبی سہولیات فراہم کرے گی۔ واضح رہے کہ ریاستی کابینہ نے 23 فروری کو اس منصوبہ کو منظوری دی تھی۔ اس کے تحت 3.56 لاکھ سرکاری ملازمین، 2.88 لاکھ پنشنرز اور ان کے زیر کفالت اہل خانہ یعنی کل 17.07 لاکھ مستفیدین کو کور کیا جائے گا۔
حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری اسپتالوں اور 652 پینل میں شامل پرائیویٹ اسپتالوں میں مکمل طور پر کیش لیس علاج کی سہولت ملے گی۔ اس منصوبہ کے تحت 1998 طبی طریقہ کار شامل کیے گئے ہیں۔ اس منصوبہ کے لیے ملازمین کو اپنی بنیادی تنخواہ کا 1.5 فیصد حصہ دینا ہوگا، جبکہ حکومت بھی اس کے برابر رقم کا تعاون کرے گی۔ ٹرسٹ کا سالانہ بجٹ 1056 کروڑ روپے ہوگا، جس میں 528 کروڑ روپے ملازمین کی طرف سے اور 528 کروڑ روپے حکومت کی جانب سے دیے جائیں گے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































