ماؤازم کے بعد اب کان کنی والے علاقوں کی باری!… جے دیپ ہاردیکر

AhmadJunaidJ&K News urduJune 17, 2026362 Views


وسطی اور مشرقی ہندوستان کے گڑھ چرولی، بستر، سنگھ بھوم، لاتیہار، کوڈرما وغیرہ کے معدنیات سے خوشحال جنگلوں کو اب بے رحمی سے لوٹنے کی تیاری ہو رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، سوشل میڈیا</p></div>

i

user
google_preferred_badge

ماؤ ازم کے خاتمہ کے ساتھ گڑھ چرولی میں بندوقیں تو خاموش ہو گئی ہیں، لیکن جنگلات، زمین اور معدنیات کے مستقبل کو لے کر ایک نئی جنگ شروع ہو رہی ہے۔ اس ماہ پورے 3 دنوں تک مہاراشٹر کے ضلع گڑھ چرولی میں چامورشی کے قریب ہزاروں قبائلی کسان احتجاجی دھرنے پر بیٹھے رہے۔ ان کا مطالبہ تھا– ہماری زمین پر قبضہ بند کرو۔

گزشتہ 12 مئی کو ریاستی حکومت نے ایک ہوائی اڈے کے لیے 4 دیہات کی 311 ہیکٹیئر سے زائد زمین کے حصول کی منظوری دی اور دیہی باشندوں کے لیے معاوضے کے طور پر تقریباً 77 کروڑ روپے منظور کیے۔ اسی دوران مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم آئی ڈی سی) چامورشی تحصیل کے 14 دیہات کی تقریباً 3,000 ہیکٹیئر زمین حاصل کرنے کے عمل میں مصروف ہے، تاکہ جے ایس ڈبلیو گروپ کے مجوزہ ایک لاکھ کروڑ روپے کے اسٹیل پلانٹ کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔

زمین کے حصول سے متعلق ان حالیہ اعلانات کے پیچھے ایک بہت بڑی منصوبہ بندی پوشیدہ ہے۔ ریاست کے اس غیر متاثرہ جنوب مشرقی گوشے میں کان کنی، بنیادی ڈھانچے، فولاد سازی و دیگر صنعتی منصوبوں کے لیے ہزاروں ہیکٹیئر جنگلات اور زرعی زمین پر قبضہ کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ بڑھتے ہوئے احتجاج کو دیکھتے ہوئے حکومت نے فی الحال بعض مجوزہ حصول اراضی کے منصوبوں کو سرد خانے میں ڈال دیا ہے، لیکن مظاہرین اپنے تجربات سے جانتے ہیں کہ یہ وقفہ ہے، اختتام نہیں۔

اس سال کے آغاز میں ریاستی مقننہ کے بجٹ اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے اعلان کیا تھا کہ گڑھ چرولی کو اسٹیل ہب میں تبدیل کیا جائے گا۔ انہوں نے 2.6 لاکھ کروڑ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری اور 70,000 ملازمتوں کا وعدہ کیا۔ طویل عرصہ تک ماؤ نواز شورش سے وابستہ رہنے والے اس ضلع کو اب ریاست کے اگلے بڑے صنعتی مرکز کے طور پر ڈھالا جا رہا ہے۔ پالیسی سازوں کے لیے شاید یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ اس بڑی خواہش کی قربان گاہ پر ہزاروں ایکڑ قدیم جنگلات، دائمی ندیاں اور جنگلات پر مبنی روزگار تباہ ہو جائیں گے۔ ان جنگلات کے نیچے دبے ہوئے لوہے کے خام ذخائر اسٹیل پلانٹس، لاجسٹکس کوریڈورز اور نئی مینوفیکچرنگ معیشت کو رفتار فراہم کریں گے۔ موجودہ اقتدار کے قریب سمجھے جانے والے کارپوریٹس کی نظریں کافی عرصہ سے ان ذخائر پر جمی ہوئی ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر کے کام پر نظر ڈالیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حکومت مشرقی ساحل کی بندرگاہوں کو مغربی ساحل سے جوڑنا چاہتی ہے۔ ریاست اور مرکز کی بی جے پی اتحاد والی حکومتیں اسے ترقی کی ایک ایسی داستان کے طور پر پیش کر رہی ہیں جو آخرکار مہاراشٹر کے سب سے زیادہ نظر انداز کیے گئے علاقوں تک پہنچ رہی ہے۔ لیکن مقامی باشندے، قبائلی حقوق کے کارکن اور ماہرین ماحولیات اس کے نتیجے میں اپنی ماحولیات، معیشت اور ثقافت پر ممکنہ تباہ کن اثرات کو صاف دیکھ رہے ہیں۔

یہ کہانی صرف گڑھ چرولی کی نہیں ہے۔ وسطی ہندوستان کے بڑے حصے میں اسی اسکرپٹ کو مختلف شکلوں میں دہرایا جا رہا ہے۔ بستر، مغربی اڈیشہ کے معدنیات سے مالا مال اضلاع اور چھتیس گڑھ، جھارکھنڈ و مہاراشٹر تک پھیلے جنگلات میں ماؤ نواز اثر و رسوخ کے کم ہونے سے کان کنی اور صنعتی منصوبوں کے لیے زمین کے بڑے بڑے ٹکڑے دیے جا رہے ہیں۔ کئی دہائیوں تک سیکورٹی خدشات اور سیاسی عدم استحکام نے کارپوریٹ دنیا کو ان علاقوں میں موجود معدنی ذخائر تک رسائی سے روکے رکھا تھا۔ لیکن اب جبکہ شورش کو قابو میں کر لیا گیا ہے اور ماؤ ازم کی وہ رکاوٹیں ٹوٹ رہی ہیں، تو معدنی وسائل کے استحصال کی وہ دبی ہوئی خواہش کھل کر سامنے آ رہی ہے۔

اس تبدیلی کی سب سے واضح مثال شاید گڑھ چرولی ہی ہے۔ یہ مہاراشٹر کے سب سے گھنے جنگلات والے اضلاع میں سے ایک ہے، جس کے تقریباً 76 فیصد حصے پر جنگلات ہیں۔ ان جنگلات کے نیچے، خاص طور پر وسطی گڑھ چرولی کی مقدس ’سورج گڑھ پہاڑیوں‘ کے آس پاس، لوہے کے خام دھات کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔ اس علاقے میں کان کنی پر برسوں بحث ہوئی، لیکن مقامی مخالفت، قانونی تنازعات اور ماؤ نواز سرگرمیوں کے باعث معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔ آج اس دور دراز علاقے کے بڑے حصے میں کان کنی کی سرگرمیوں کا بخار، ٹرکوں کی مسلسل آمد و رفت، سیکورٹی فورسز کی بھاری تعیناتی اور نئے بنیادی ڈھانچے کی توسیع صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، کبھی انتہائی پُرسکون رہنے والے اس قبائلی علاقے میں غیر قبائلی مہاجرین کی ایک بڑی آمد بھی شروع ہو چکی ہے۔

حکومت کا نقطۂ نظر بالکل واضح ہے۔ جنگلات سے لوہے کی خام دھات نکالی جائے گی، جبکہ اسٹیل اور اس سے وابستہ صنعتیں جنگلات کے باہر قائم کی جائیں گی۔ سڑکیں، ریلوے رابطے، مجوزہ ہوائی اڈہ، صنعتی زون اور لاجسٹکس کا بنیادی ڈھانچہ ان کانوں کو پروسیسنگ مراکز اور بازاروں سے جوڑیں گے۔ حکام کا استدلال ہے کہ اس نئے مینوفیکچرنگ ڈھانچے سے روزگار پیدا ہوگا، مقامی آمدنی بڑھے گی اور گڑھ چرولی مرکزی دھارے کی معیشت سے جڑ جائے گا۔ لیکن یہ نقطۂ نظر زمین چھن جانے سے پیدا ہونے والے سنگین بحرانوں کو بڑی چالاکی سے چھپا لیتا ہے۔

اس حصول اراضی کے لیے غالباً اس پرانی چال کا سہارا لیا جائے گا، جس کے تحت ان جنگلاتی زمینوں کے بعض حصوں کو ’بنجر زمین‘ قرار دے دیا جاتا ہے، تاکہ اجتماعی جنگلاتی حقوق کو منمانی طور پر محدود یا مسترد کیا جا سکے۔ یہ حصول اراضی ’پنچایت (توسیع برائے درج شدہ علاقوں) ایکٹ، 1996‘ (پیسا) کی جمہوری رضامندی اور قانونی ڈھانچے کی کھلے عام دھجیاں اڑائے گا، لیکن موجودہ حکومت کے لیے یہ کوئی بڑی رکاوٹ نہیں ہے۔ ماحولیاتی گروپ بار بار خبردار کرتے رہے ہیں کہ سورج گڑھ اور اس کے اطراف کان کنی سے اس حساس جنگلی حیات کے منظرنامے کو خطرہ لاحق ہے جو مہاراشٹر اور چھتیس گڑھ کے جنگلات کو آپس میں جوڑتا ہے۔ ’تاڈوبا-اندراوتی کوریڈور‘، جو محفوظ علاقوں کے درمیان شیروں کی نقل و حرکت کو آسان بناتا ہے، اسی علاقے کے بعض حصوں سے گزرتا ہے۔ یہاں تک کہ قومی ٹائیگر تحفظ اتھارٹی نے بھی ان منظوریوں پر سوالات اٹھائے ہیں، لیکن سب بے اثر! تمام انتباہات کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

گڑھ چرولی ماحولیاتی اعتبار سے انتہائی حساس اور سماجی اعتبار سے نازک ضلع ہے۔ 4 دہائیوں پر محیط اس خونریز تنازعہ کے سائے سے نکلنے کے بعد، جس میں ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں، اس علاقے کو ’سنبھلنے کا وقت‘ دینا ضروری تھا۔ لیکن ترقی کے نام پر زمین قبضہ کرنے کی یہ اندھی دوڑ ایسی کسی بھی حساسیت کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑنے والی۔ ان قبائلی آبادیوں کا کیا ہوگا جنہیں یہ منصوبے ہمیشہ کے لیے بے گھر کر دیں گے؟ اس ’ٹائیگر کوریڈور‘ کا کیا ہوگا جسے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیا جائے گا؟ کیا اسے کبھی بحال کیا جا سکے گا؟

گڑھ چرولی کے قبائلی علاقوں سے گوا تک مجوزہ ’شکتی پیٹھ ایکسپریس وے‘ اس بڑی تبدیلی کے پیمانے کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔ حکومت اور اس کے حامی اسے ایک اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے طور پر دیکھتے ہیں جو علاقوں کو جوڑے گا اور اقتصادی ترقی کو رفتار دے گا۔ لیکن اس دلکش تشہیر سے ہٹ کر، یہ دراصل معدنیات، صنعتی سامان اور سرمایہ کی تیز تر نقل و حرکت کے لیے تیار کی گئی ایک ’کنویئر بیلٹ‘ ہے۔ اسے ہندوستان کی اس وسیع ’استحصالی معیشت‘ کی مرکزی شریان کے طور پر ڈیزائن کیا جا رہا ہے، جو وسطی ہندوستان کے جنگلات سے لے کر بندرگاہوں اور برآمدی منڈیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔

گڑھ چرولی میں ابھرنے والی یہ کہانی خود گڑھ چرولی سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔ برسوں تک یہ ضلع ہندوستانی حکومت اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان تصادم کی علامت بنا رہا۔ وہ تصادم شاید ختم ہو رہا ہو، لیکن زمین اور جنگلات و مستقبل کے مختلف تصورات کے حوالے سے ٹکراؤ آج بھی زندہ ہے۔ بندوقیں اگرچہ خاموش ہو گئی ہیں، لیکن جنگلات پر کس کا کنٹرول ہوگا، اس کی اصل لڑائی شاید اب شروع ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...