’اے ایم ڈی‘ بااخلاق اور ایمان پرور ڈاکٹرس کا ذخیرہ تیار کرنے میں مصروف

AhmadJunaidJ&K News urduMay 9, 2026358 Views


مسلم بچے و بچیوں کو ڈاکٹر بنانے سے اے ایم ڈی کو ضرور سرخ روئی حاصل ہوئی ہے، لیکن اے ایم ڈی کی دیگر سرگرمیاں بھی لائق تحسین و مبارکباد ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس (اے ایم ڈی) کے قومی سکریٹری ڈاکٹر (پروفیسر) محمد اطہر انصاری</p></div><div class="paragraphs"><p>ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس (اے ایم ڈی) کے قومی سکریٹری ڈاکٹر (پروفیسر) محمد اطہر انصاری</p></div>

i

user

google_preferred_badge

سر سے پاؤں تک حجاب میں نظر آنے والی بچی عمبرین طیب نے 20-2019 میں جب نیٹ (NEET) کا امتحان امتیازی نمبرات سے پاس کر ڈاکٹر بننے کی طرف قدم بڑھایا تو لوگ حیران رہ گئے۔ اس کے دوست و احباب تو چھوڑیے، نیٹ کی تیاری کرانے والے غیر مسلم استاد ابھشیک سر (بایولوجی فیکلٹی) بھی مسرت آمیز حیرت میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں پہلی بار احساس ہوا کہ تعلیم کے حصول میں پردہ کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اس بات کا اظہار انھوں نے برسرعام کیا اور اُس عمبرین طیب کی کامیابی پر دل کی عمیق گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی، جس کی اب تک انھوں نے صرف آنکھیں ہی دیکھی تھیں۔ وہ آنکھیں، جس نے طب کے شعبہ میں خدمت کرنے کا خواب دیکھا تھا، اور اب اس خواب کی تکمیل کی طرف بڑھ گئی تھی۔

شگوفہ انجم کی کہانی بھی کم حوصلہ افزا نہیں ہے۔ اس نے بھی 20-2019 میں ہی نیٹ کا امتحان امتیازی نمبرات کے ساتھ پاس کیا۔ شگوفہ پٹنہ واقع نیو عظیم آباد کے ’مسجد عمر ابن خطابؓ‘ کے امام صاحب کی بیٹی ہے، جو تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ ان کی دختر نیک اختر ڈاکٹر بنے گی۔ اسلامی ماحول اور پردہ کے نظام میں پرورش پانے والی کسی بھی بچی کے لیے اِس دورِ پُرفتن میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنا ہی محال ہے، پھر نیٹ کی تیاری آسان کیسے ہو سکتی تھی۔

یہ تو محض 2 مثالیں ہیں۔ ایسی کئی مثالیں ’اے ایم ڈی‘ یعنی ’ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس‘ کی شناخت بن چکی ہیں۔ اے ایم ڈی نے ہونہار مسلم بچیوں کو نیٹ کی تیاری کرانے کے مقصد سے 2019 میں پہلی بار پیش رفت کی، اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اے ایم ڈی کے بینر تلے تیاری کر رہیں 15 میں سے 9 مسلم بچیاں نیٹ کا امتحان پاس کر مختلف اسپتالوں سے منسلک ہو گئیں۔ عمبرین طیب (نیٹ میں 653 نمبرات) اے ایم ڈی میں پہلا رینک حاصل کر ’جواہر لال نہرو میڈیکل کالج‘ (علی گڑھ) پہنچ گئیں، جبکہ اُمیمہ فاطمہ (نیٹ میں 652 نمبرات) اور شگوفہ انجم (نیٹ میں 644 نمبرات) نے اے ایم ڈی میں بالترتیب دوسری اور تیسری رینک حاصل کر ’پٹنہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل‘ (پٹنہ) کا رخ کیا۔ ان تینوں اور دیگر طالبات کی کامیابی سے اے ایم ڈی کو ایسا حوصلہ ملا کہ 2021 میں لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں کی بھی کلاسز شروع کر دی گئیں۔ پھر تو یہ سلسلہ ایسا چلا کہ ہر سال کامیابی کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ سب اچانک ہو گیا، بلکہ اس کے پیچھے ایک دانشمندانہ فکر، مخلصانہ کوشش اور عالمانہ منصوبہ بندی موجود ہے۔ مسلم بچیوں اور بچوں کے لیے نیٹ کی تیاری کا انتظام کرنے کا خیال تو بہت بعد میں آیا، پہلے مسلم ڈاکٹرس کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوششیں ہوئیں۔ اس بارے میں اے ایم ڈی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر (پروفیسر) محمد اطہر انصاری نے تفصیل کے ساتھ جو کچھ بتایا، وہ فکر کی کئی جہتیں کھولنے والا ہے۔ دراصل ڈاکٹر محمد اطہر انصاری ’نالندہ میڈیکل کالج اینڈ ہاسپیٹل‘ (پٹنہ) میں پروفیسر آف پیڈیاٹرکس ہیں، اور ’ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس‘ انہی کی سوچ کا نتیجہ ہے۔ اس سوچ کو پروان چڑھانے میں ان کے دوستوں، خصوصاً ڈاکٹر ساتھیوں کا بھرپور تعاون رہا۔ ڈاکٹر محمد اطہر بتاتے ہیں کہ ’’1997 میں جب حکومت بہار کی ملازمت ملی تو کئی سال ایسے ہی کٹ گئے۔ 2008 میں جب نالندہ میڈیکل کالج آیا تو مختلف تقاریب میں شرکت کے دوران دیکھتا تھا کہ مسلم ڈاکٹرس کو اسٹیج پر جگہ ہی نہیں مل رہی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے انھیں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ پھر دل میں خیال پیدا ہوا کہ کیوں نہ مسلم ڈاکٹرس کے لیے ایک پلیٹ فارم تیار کیا جائے۔ یہ خیال پیدا ہوتے ہی اپنے ساتھی مسلم ڈاکٹروں سے بات کی، اور پھر راستے ہموار ہوتے چلے گئے۔‘‘

ڈاکٹر محمد اطہر انصاری کا کہنا ہے کہ مسلم ڈاکٹروں کا پلیٹ فارم قائم کرنے کے مقصد سے 2009 میں جب پہلی میٹنگ حاجی پور (پٹنہ) میں ہوئی تو اس میں 32 ڈاکٹرس اور 20 سماجی کارکنان موجود تھے۔ میٹنگ میں پلیٹ فارم کا نام ’اسلامک میڈیکل ایسو سی ایشن آف بہار اینڈ جھارکھنڈ‘ طے پایا اور اسی بینر کے تحت کانفرنس اور دیگر سرگرمیوں کو انجام دینے کا فیصلہ ہوا۔ 2011 میں ’ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس‘ نام سے این جی او کا رجسٹریشن بہار میں ہوا، جہاں سے ادارے کی سرگرمیاں بڑھ گئیں۔ ڈاکٹر محمد اطہر نے یہ بھی بتایا کہ ’ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس‘ کا رجسٹریشن بھی ایک مشکل مرحلہ ثابت ہوا، کیونکہ این جی او کے نام میں ’مسلم‘ یا ’اسلامک‘ کی موجودگی پر اعتراض ظاہر کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’میں ہر حال میں ایسا نام رکھنا چاہتا تھا جس سے مسلم شناخت ظاہر ہو۔ نام میں ’اسلامک‘ یا ’مسلم‘ لفظ کی ممانعت سے مجھے بہت تکلیف ہوئی، پھر بھی بہت صلاح و مشورہ اور کوششوں کے بعد کچھ نئے نام دیے گئے اور الحمدللہ ’ایسو سی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس‘ کو منظوری مل گئی۔‘‘

بہرحال، آگے چل کر اے ایم ڈی کے ماتحت ’اے ایم ڈی اکیڈمی‘ کی بنیاد پڑی اور ’اے ایم ڈی شاہین‘ کا بھی قیام ہوا۔ نیٹ کی تیاری کے لیے کوچنگ شروع کرنے کا خیال ڈاکٹر محمد اطہر انصاری کو تب آیا جب اپنی بیٹی کو 2014 میں میڈیکل کی تیاری کے لیے کوٹہ (راجستھان) بھیجا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’کوٹہ کا ماحول دیکھ کر میں فکر مند ہوا۔ سوچنے لگا کہ اسلامی ماحول میں رہنے والی ہماری بیٹیاں غیر اسلامی ماحول میں کس طرح تعلیم حاصل کر پائیں گی۔‘‘ اُس وقت تو وہ کوئی بڑا فیصلہ نہیں لے سکے، لیکن 2019 میں جب دوسری بیٹی کو نیٹ کی تیاری کرانی تھی تو پٹنہ میں ہی ہونہار مسلم بچیوں کے لیے کوچنگ شروع کرنے کا ارادہ کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ’’بہار اور جھارکھنڈ کی 93 بچیوں کا امتحان لیا گیا۔ ارادہ 40 ہونہار بچیوں کا انتخاب کرنا تھا، لیکن 30 بچیاں ہی ٹیسٹ پاس کر سکیں۔ ان میں سے بھی 15 بچیوں نے ہی کلاسز جوائن کی جہاں 7 بچیوں کے والدین سے فیس لی جاتی تھی اور 8 بچیوں کو مفت تعلیم دی گئی۔ انہی 15 بچیوں میں سے 9 بچیاں نیٹ کے امتحان میں سرخرو ہو کر مختلف اسپتالوں سے منسلک ہوئیں۔

دراصل ڈاکٹر محمد اطہر انصاری کا منصوبہ ہی یہ تھا کہ نصف بچیوں سے فیس لی جائے گی اور نصف بچیوں کو (جو غریب گھرانہ سے تعلق رکھتی ہوں) مفت تعلیم دی جائے گی۔ اسی منصوبہ کو آگے چل کر انھوں نے ’اے ایم ڈی 2020‘ نام دیا۔ یہاں ’2020‘ سے مراد 20 بچیوں کو فیس لے کر تعلیم دینا اور 20 بچیوں کو بغیر فیس تعلیم دینا ہے۔ لڑکوں کے لیے بھی یہی منصوبہ قائم ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اب تک تقریباً 75 بچے اور بچیاں نیٹ نکال کر شعبۂ طب سے منسلک ہو چکے ہیں۔ تقریباً 65 بچوں کو گورنمنٹ سیٹیں حاصل ہوئیں، جبکہ کم و بیش 10 بچوں کو پرائیویٹ سیٹیں ملیں۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نصف بچے اور بچیوں کی فیس سے ہی تعلیم و تعلم اور رہائش و طعام سمیت سبھی انتظامات خوش اسلوبی سے پورے ہو جاتے ہیں۔ ڈاکٹر محمد اطہر نے بات چیت کے دوران اس بات پر تو خوشی ظاہر کی ہی کہ بڑی تعداد میں مسلم بچے اور بچیاں ڈاکٹرس بن رہے ہیں، انھیں زیادہ اطمینان اس بات پر ہے کہ اے ایم ڈی سے نکلنے والے بچے اور بچیاں حقیقی معنوں میں اسلامی قدروں کی پاسداری کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ’’ہمارا مقصد ایسے ڈاکٹرس بنانا ہے جو اسلامی تعلیمات پر عمل کریں، نماز پڑھیں، اخلاق کا بہترین نمونہ بنیں اور اسلامی تہذیب کے نمائندہ ثابت ہوں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ ’اے ایم ڈی 2020‘ سے آگے نکل کر دہلی میں ’اے ایم ڈی 40‘ منصوبہ کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ اس کے تحت سبھی 40 بچوں کو مفت نیٹ کی تیاری کرائی جاتی ہے اور رہائش و طعام سمیت سبھی سہولیات فراہم کرائی جاتی ہیں۔ 2025 میں نیٹ پاس کر 15 بچوں نے گورنمنٹ سیٹ حاصل کی تھی، جو انتہائی حوصلہ افزا ہے۔

مسلم بچے اور بچیوں کو نیٹ کی تیاری کرانے کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیمات سے آشنا کرانے کے لیے اے ایم ڈی نے کچھ ایسا روٹین تیار کیا ہے، جو کسی دوسری جگہ دیکھنے کو نہیں ملتا۔ یہاں یہ بتانا بھی اہم ہے کہ اے ایم ڈی رہائشی کوچنگ چلاتا ہے جہاں پیشہ ورانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ قرآن فہمی اور دینیات کی کلاسز بھی ہوتی ہیں۔ وقت پر نیند سے بیدار ہونا، کھانا، عبادت کرنا سبھی طلبا کے لیے ضروری ہے۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا خاص خیال رکھنا بھی اے ایم ڈی کا وصف ہے۔ اس کا تو ٹیگ لائن ہی ’تعلیم مع تربیت‘ ہے۔ تربیت 2 حصوں، قرآن کا ترجمہ اور دینیات کی تعلیم پر مشتمل ہے۔ اس طرح کوشش ہوتی ہے کہ بچوں کے اندر دین کا احساس پیدا ہو اور ایک ایمان والا ڈاکٹر وجود میں آئے۔ ادارہ کی طرف سے طلبا کو ہر طرح کی سہولیات دی جاتی ہیں، حتیٰ کہ لڑکا اور لڑکی کے لیے کوچنگ کے ساتھ ساتھ رہائش کا بھی علیحدہ انتظام کیا گیا ہے جس سے ان کا ذہن کسی بھی طرح منتشر نہ ہو۔

مسلم بچے و بچیوں کو ڈاکٹر بنانے سے اے ایم ڈی کو ضرور سرخ روئی حاصل ہوئی ہے، لیکن اے ایم ڈی کی دیگر سرگرمیاں بھی لائق تحسین و مبارکباد ہیں۔ مثلاً ہر سال ہونے والی ڈاکٹرس کی کانفرنس انتہائی کارآمد ثابت ہوتی ہے۔ یہ بتانا بھی مسرت آمیز ہوگا کہ 2014 میں اے ایم ڈی کا دہلی چیپٹر، 2018 میں جھارکھنڈ چیپٹر اور 2025 میں اتر پردیش چیپٹر شروع ہو چکا ہے۔ سبھی جگہ سالانہ کانفرنس کا انعقاد ہوتا ہے۔ ہر جگہ کانفرنس سے ٹھیک ایک روز قبل 2 اہم تقریبات کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔ پہلی تقریب ’آؤ دین سیکھیں‘ عنوان سے منعقد ہوتی ہے جس کی پیشکش ’منظم مکتب دینیات‘ کے ذمہ ہے۔ اس میں دین اور اسلام کی باتیں علماء و دانشور کی زبانی سننے کو ملتی ہیں۔ دوسری تقریب بوقت شام ’انٹیلکچوئل میٹ‘ (دانشوروں کی ملاقات) نام سے ہوتی ہے جس کا عنوان ’امت کے حالات اور ہماری ذمہ داریاں‘ ہوتا ہے۔ یہ میٹنگ بہت اہم ہوتی ہے، کیونکہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے مقامی معزز حضرات کو جمع کیا جاتا ہے۔ انھیں احساس دلایا جاتا ہے کہ مسلم طبقہ کو مشکل حالات سے نکالنا ہے تو کم از کم 2 بچوں کو اپنے شعبہ میں تعلیم و تربیت دے کر آگے بڑھائیں۔ یعنی ڈاکٹرس کسی غریب بچے کی ذمہ داری لے کر اسے ڈاکٹر بنائیں، انجینئر کسی ہونہار بچے کو انجینئر بنائیں، اساتذہ کسی بچے کو استاذ بنانے کا عزم کریں، حتیٰ کہ کسی پروڈکشن سے جڑا شخص آس پاس کے کسی بچے کو پروڈکشن میں ہی آگے بڑھائے۔

اے ایم ڈی کی سوچ حقیقی معنوں میں ایسی ہے جو کسی بھی شخص کو دین اور دنیا دونوں میں کامیاب و کامران کر دے۔ ڈاکٹر محمد اطہر انصاری نے تعلیم و تربیت کا جو چراغ روشن کیا ہے، وہ اب صرف ان کی کاوشوں تک محدود نہیں رہ گیا، بلکہ ایک قافلہ تیار ہو چکا ہے جس سے دن بہ دن مزید لوگ جڑتے چلے جا رہے ہیں۔ اب آپ کو فیصلہ کرنا ہے کہ اس قافلہ کا حصہ آپ کب بنیں گے!

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...