
انسانی تاریخ کا سب سے قدیم، سب سے بنیادی اور سب سے مسلسل سوال خدا کا سوال ہے۔ انسان نے جب پہلی بار آسمان کی وسعت کو دیکھا ہوگا، سورج کو طلوع و غروب ہوتے محسوس کیا ہوگا، رات کی خاموشی میں ستاروں کی گردش، زندگی کی پیدائش اور موت کے اسرار پر غور کیا ہوگا، تب اس کے دل میں لازماً یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ اس عظیم کائنات کی تخلیق کے پیچھے کوئی ہستی ضرور ہے۔ تہذیبیں بدلتی رہیں، زبانیں تبدیل ہوتی رہیں، سلطنتیں مٹتی رہیں، مگر ایک چیز کبھی ختم نہ ہوئی: انسان کا یہ یقین کہ اس کائنات کے پیچھے کوئی ایک عظیم، قادر، برتر اور ماورائی ہستی ضرور موجود ہے۔
کسی نے اسے اللہ کہا، کسی نے God، کسی نے Elohim، کسی نے برہمن، کسی نے واہگرو اور کسی نے اہورا مزدا، مگر اگر ان تمام ناموں، ان کے لسانی پس منظر اور مذہبی مفاہیم کا غیر جانب دارانہ مطالعہ کیا جائے تو حیرت انگیز طور پر ایک ہی حقیقت سامنے آتی ہے: انسانی مذہبی شعور بنیادی طور پر ہمیشہ ایک خدا کے تصور کی طرف مائل رہا ہے۔ گویا مذاہب کے ظاہری اختلافات کے پیچھے ایک مشترک روح موجود ہے، اور وہ روح وحدانیتِ الٰہی کی روح ہے۔






