
ذرائع کے مطابق یہ ’کوشچن بینک‘ سب سے پہلے چورو کے ایک نوجوان نے بھیجا تھا جو فی الحال کیرالہ کے ایک میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی پڑھائی کررہا ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہاں سے یہ مواد سیکر کے ایک پی جی آپریٹر کے پاس پہنچا اور پھر طلبہ میں تقسیم کیا گیا۔ بعد میں یہ بہت سے دوسرے طلبہ تک وائرل ہو گیا۔ ایس او جی اب پورے نیٹ ورک کی مکمل تحقیقات کر رہی ہے۔ ایجنسی اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ مواد سب سے پہلے کس نے تیار کیا اور اسے پھیلانے میں کون کون لوگ شامل تھے۔ مشتبہ افراد کے سوشل میڈیا چیٹس، کال لاگز اور ڈیجیٹل ریکارڈ کی جانچ کی جا رہی ہے۔





