
واضح رہے کہ اس تنازعہ سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ٹیکنالوجی اور عدالتی نظام کے باہمی تعلق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی بذات خود نہ اچھی ہوتی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ معاشرہ اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا کام نئی ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تکنیکی طاقت ہمیشہ آئینی اقدار اور انسانی وقار کے سامنے جوابدہ رہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد بھی سی جے آئی سوریہ کانت برطانیہ میں اپنے طے شدہ پروگراموں میں شریک ہو رہے ہیں، جہاں جمعہ کے روز انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ کی اقتصادی شراکت داری سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا۔






