امریکہ کے محکمۂ انصاف نے حال ہی میں دنیا کی 4 سب سے بڑی شپنگ کنٹینر بنانے والی کمپنیوں پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ محکمہ نے کورونا وبا کے دوران شپنگ کنٹینرز کی پیداوار محدود کرنے اور قیمتیں طے کرنے کے لیے سازش کے الزام میں مقدمہ چلانے کی درخواست دائر کی تھی۔ اب اس معاملے میں ان 4 کمپنیوں کے ساتھ 7 چینی افسران کے خلاف بھی مقدمہ درج کر دیا گیا ہے۔
ان سب پر غیر ریفریجریٹڈ معیاری شپنگ کنٹینرز کی عالمی پیداوار محدود کرنے اور ان کی قیمتیں طے کرنے کے لیے سنگین سازش کا الزام ہے۔ الزام ہے کہ اس سازش کے سبب 2019 سے 2021 کے درمیان معیاری شپنگ کنٹینرز کی قیمتیں تقریباً دوگنی ہو گئی تھیں۔ کورونا کے دوران وبا اور عالمی سپلائی چین کے بحران کے وقت کنٹینر بنانے والی کمپنیوں کے منافع میں تقریباً سو گنا تک اضافہ ہوا تھا۔
امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کے شمالی ضلع کی ضلعی عدالت میں دائر مقدمے کے مطابق یہ مبینہ سازش نومبر 2019 میں شروع ہوئی تھی اور کم از کم جنوری 2024 تک جاری رہی۔ اس میں دنیا کے تقریباً تمام ڈرائی شپنگ کنٹینرز شامل تھے۔ جن 7 چینی عہدیداروں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے، ان میں وِک این ہِنگ ما بھی شامل ہیں، جنہیں وِک ما کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وِک ما کو 14 اپریل 2026 کو فرانس میں گرفتار کیا گیا تھا۔
کیلیفورنیا میں مقدمہ درج ہونے کے بعد اب امریکہ نے وِک ما کو فرانس سے حوالگی کے ذریعہ لانے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے۔ وِک ما کنٹینر بنانے والی کمپنی سنگاماس کنٹینر ہولڈنگز لمیٹڈ میں مارکیٹنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کر رہے تھے۔ ما پہلے ہی فرانس میں گرفتار ہو چکے ہیں، جبکہ دیگر 6 چینی عہدیدار اب بھی مفرور بتائے جا رہے ہیں۔
اس مقدمہ میں کنٹینر سازی سے متعلق جن 4 بڑی کمپنیوں کے نام شامل ہیں، ان میں سنگاماس کنٹینر ہولڈنگز لمیٹڈ کے علاوہ چائنا انٹرنیشنل میرین کنٹینرز (گروپ) کمپنی لمیٹڈ، شنگھائی یونیورسل لاجسٹکس ایکوئپمنٹ کمپنی لمیٹڈ اور سی ایکس آئی سی گروپ کنٹینرز کمپنی لمیٹڈ بھی شامل ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان کمپنیوں کا عالمی ڈرائی شپنگ کنٹینر مارکیٹ کے بڑے حصے پر کنٹرول تھا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔































