
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس 11 اپریل کو ایران کے ساتھ بات چیت کے لیے اسلام آباد پہنچے تھے۔ (تصویر: اے پی/جیکلن مارٹن)
گو کہ اسلام آباد کے سفارتی ماحول میں امریکہ اور ایران کے درمیان، پاکستان کی بھرپور سہولت کاری کے سائے میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے ، مگر عالمی امور کے ماہرین اور مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ ’جدید تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی سرگرمی‘تھی ۔
اس غیر معمولی سرگرمی کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دونوں وفود میں کم و بیش چار سو افسران شامل تھے۔
ایرانی وفد دو خصوصی طیاروں پر مشتمل ایک غیر معمولی لشکر کے ہمراہ اسلام آباد وارد ہوا تھا۔ اس وفد میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے متعدد اہم ارکان بھی شامل تھے۔
یہ وفد اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس میں صرف روایتی سفارت کار ہی موجود نہ تھے، بلکہ عسکری ماہرین کے ساتھ ساتھ سیاسی، قانونی، حفاظتی اور معاشی امور کے منجھے ہوئے ماہرین بھی اس بھاری بھرکم وفد کا حصہ تھے، جو ہر ممکنہ منظرنامے پر غور کرنے کےلیے موجود تھے۔
مذاکرات کی میز پر تہران کی تیاری کا یہ عالم تھا کہ ایٹمی تنصیبات کی حفاظت اور ان کے دفاعی و پرامن پہلوؤں سے متعلق ایرانی وفد کی جانب سے تیار کردہ صرف ایک تکنیکی وضاحت ہی 100 سے زائد صفحات پر محیط تھی۔
یہ ضخیم دستاویز اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ ایرانی حکام اس بار کسی بھی قسم کی ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اور ہر تکنیکی نکتے پر اپنا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہو کر آئے تھے۔
دوسری طرف، واشنگٹن نے بھی اس عمل کو معمولی نہیں لیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس خود اس مشن کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ تقریباً 300 دیگر افسران اور ماہرین پر مشتمل ایک وسیع وفد اسلام آباد پہنچا تھا۔
جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کے حساس ترین مراحل کے دوران صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے کم از کم ایک درجن مرتبہ براہِ راست رابطہ کیا ۔صرف یہی نہیں، بلکہ امریکی نائب صدر نے ایک بار اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی براہِ راست گفتگو کی، جس کا مقصد ممکنہ طور پر علاقائی خدشات کو دور کرنا تھا۔
تاہم، سفارتی حلقوں میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا رہی ہے، اسی گفتگو کے بعد امریکی وفد کا رخ سخت ہوگیا ااور مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے۔
ویسے اس مقام پر یہ توقع رکھنا شاید حد سے زیادہ پرامیدی اور غیر حقیقی ہوتا کہ ویانا میں سن 2013 سے 2015 کے دوران ہونے والے جوہری معاہدے کے وہ پیچیدہ مسائل جو دو سال کی طویل تگ و دو کے بعد حل ہوئے تھے، انہیں اسلام آباد کی ایک ہی طویل نشست میں مکمل طور پر سمیٹ لیا جائے گا۔ تاہم، یہ نشست اس لحاظ سے اہم رہی کہ اس نے مستقبل کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کر دیا۔
ایرانی وفد کے مطابق براہ راست بات چیت کے دوران امریکہ نے تین ایسے نکات اٹھائے، جو تعطل کا باعث بنے ۔ امریکہ نے مطالبہ کیا کہ ایرانی تحویل میں جس یورینیم نے ساٹھ فیصد افزودگی حاصل کی ہے اس کو امریکی تحویل میں دیا جائے، تاکہ ایران کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی طرف کوئی بھی ممکنہ پیش قدمی پوری طرح روک دی جائے۔
سفارت کاروں کے مطابق ، ایران یہ افزودہ یورینیم کسی اور ملک کی تحویل میں دینے پر رضامند ہوسکتا ہے۔ اسی طرح وینس نے ایرانی وفد کو مشورہ دیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ ، عراق میں حشد الشعی ، یمن میں حوثی اور فلسطین میں حماس کی حمایت کرنا بند کردے ۔
ایرانی وفد نے خطے میں امریکی افواج کے انخلائی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ اس کو مشروط کر دیا۔ مگر سب سے زیادہ پیچ آبناے ہرمز کے حوالے سے پھنسا۔
ایران نے مستقل جنگ بندی کے بغیر اس کو کھولنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔
یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے اس آبنائے سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کی جانے والے محصول میں شراکت کی خواہش کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر پہلے ہی ٹرمپ اس کا عندیہ دے چکے تھے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں جو ’جنگ بندی‘یا کشیدگی میں کمی کا تاثر ابھرا ، وہ محض کسی ایک دن کی سفارتی کامیابی کا نتیجہ نہیں تھا ، بلکہ یہ پسِ پردہ جاری رہنے والے ان پیچیدہ رابطوں، شدید علاقائی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے حساب وکتاب کا ثمر تھا جو کئی ہفتوں سے پردے کے پیچھے جاری تھے۔
اس پورے عمل میں خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی تشویش اور چین کی بظاہر خاموش مگر انتہائی گہری حکمتِ عملی بھی پوری شدت کے ساتھ کارفرما رہی۔
سابق ہندوستانی خارجہ سکریٹری وجے گوکھلے کے مشاہدات کے مطابق، بیجنگ نے اس پورے کھیل میں خود کو انتہائی دانستہ طور پر براہ راست تنازع سے دور رکھا، تاکہ وہ اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل مدتی اسٹریٹجک فوائد کو سمیٹ سکے۔
گوکھلے کا یہ تجزیہ انتہائی فکر انگیز ہے کہ ’چین ایک انتہائی صبر آزما قوت ہے، جو ہر قدم سو بار سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہے‘۔
بیجنگ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی نازک صورتحال پر فوری یا جذباتی ردعمل دینے کے بجائے اس کے دور رس مضمرات کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لیتا ہے۔
وجے گوکھلے کے تجزیے کے مطابق، جدید ترین ٹکنالوجی اور بے پناہ عسکری برتری کے باوجود، امریکہ اپنے سے کہیں چھوٹے مگر پرعزم حریف کو جلدی شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جو خاص طور پر چین کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بیجنگ مستقبل قریب میں تائیوان کے تناظر میں بالکل اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔
اگر اس پورے بحران میں پاکستان ایک باضابطہ میزبان اور متحرک سہولت کار کے طور پر سامنے تھا، تو پسِ پردہ سفارت کاری کے مضبوط ستونوں میں چین کے ساتھ ساتھ ترکیہ، قطر اور عمان بھی بھرپور طریقے سے شامل تھے۔
فرق صرف اتنا تھا کہ جہاں پاکستان کا کردار ایک نمایاں سہولت کار کا تھا، وہیں ترکیہ کا کردار زیادہ تر خاموش، تہہ در تہہ اور بیک وقت کئی دائروں میں متحرک رہا۔ ترکیہ نے اس بحران کے آغاز ہی میں اپنی دو ترجیحات انتہائی واضح کر لی تھیں؛ پہلی یہ کہ اس تصادم کو ایک مکمل علاقائی جنگ بننے سے روکا جائے، اور دوسری یہ کہ اس کا مرکز خلیج کی جوابی صف بندی بننے کے بجائے واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود رکھا جائے۔
یہی وہ تزویراتی فریم ورک تھا جس کے اندر رہتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان اور صدر رجب طیب اردوان کی سفارت کاری نے دن رات کام کیا۔
یہاں سب سے اہم اور نمایاں حقیقت یہ ہے کہ حقان فیدان نے صرف دس دنوں کے قلیل عرصے میں 150 سے زیادہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔ ان دس دنوں میں فیدان نے امریکی حکام، ایرانی قیادت، پاکستانی اربابِ اختیار اور خلیجی وزرائے خارجہ سمیت دیگر علاقائی دارالحکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطہ استوار رکھا ۔
اسی طرح صدر رجب طیب اردوان نے بھی غیر معمولی سفارتی سرگرمی دکھائی۔ انہوں نے بذاتِ خود 20 سے زیادہ عالمی رہنماؤں سے براہِ راست رابطے کیے، اور بعض رپورٹوں کے مطابق ان کی ’فالو اپ‘اور ثانوی سفارتی گفتگو کی تعداد پچاس کے قریب بتائی جا رہی ہے۔
اگر براہِ راست اور بالواسطہ رابطوں، مرحلہ وار گفتگو اور ایک ہی قیادت کے ساتھ متعدد ادوار میں ہونے والی بات چیت کو یکجا کیا جائے تو یہ کہنا محفوظ ہوگا کہ صدر اردوان نے امریکہ، روس، ایران، یورپ، خلیج اور وسیع تر مسلم دنیا کے رہنماؤں کے ساتھ مسلسل مشاورت کے ذریعے ایک وسیع سفارتی دائرہ قائم کر لیا تھا۔
انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ، ولادیمیر پوتن، مسعود پزشکیان اور ایمانویل میکرون سمیت برطانیہ اور یورپ کی دیگر قیادتوں، قطر کے امیر، سعودی ولی عہد، اماراتی صدر اور عمانی سلطان سمیت متعدد مسلم و علاقائی رہنماؤں سے تفصیلی بات چیت کی۔ ان رابطوں کا مقصد ایک ایسا بین الاقوامی ماحول پیدا کرنا تھا جس میں جنگ بندی محض ایک وقفہ نہ رہے بلکہ کسی دیرپا سیاسی عمل کا دیباچہ بن سکے۔
ترکیہ کے اس پورے کردار کی سب سے بڑی انفرادیت اس کی ’انٹلی جنس ڈپلومیسی‘ تھی۔ جہاں وزارتِ خارجہ کی رسمی سفارت کاری جاری تھی، وہیں ترکیہ کے انٹلی جنس ادارے ’ایم آئی ٹی‘نے بھی پسِ پردہ ایک کلیدی کردار ادا کیا۔
یہی وہ ادارہ ہے جو مغربی انٹلی جنس حلقوں، ایم آئی ٹی کی نیشنل انٹلی جنس آرگنائزیشن، یعنی ایران کے پاسدارانِ انقلاب اور بعض حالات میں اسرائیلی سکیورٹی حلقوں تک رسائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترکیہ بیک وقت متضاد اور باہم متخاصم فریقوں کے درمیان رابطہ قائم رکھنے میں کامیاب رہا۔
یہ کردار اس لیے بھی انتہائی اہمیت کا حامل تھا کہ جنگ کے دوران صرف براہِ راست حملوں کو روکنا کافی نہیں ہوتا بلکہ غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا اس سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہو جاتا ہے۔
ترکیہ نے تہران کو بعض اہداف کے انتخاب کے بارے میں قبل از وقت تنبیہات پہنچائیں اور خلیجی دارالحکومتوں کو تحمل کی تلقین کی۔ عید کے پچھلے دن حقان فیدان کا ریاض، دوحہ اور ابوظہبی کا ہنگامی دورہ محض کوئی علامتی دورہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی ہنگامی سفارتی مشق تھی جس نے بارود کے ڈھیر کو چنگاری لگنے سے بچا لیا۔
خلیجی ریاستوں اور ترکیہ کے لیے یہ موجودہ جنگ محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں بلکہ ایک’وجودی سوال‘بن چکی ہے۔ ایک طرف اسرائیلی خوائش کہ ایران کا انہدام ہو، جو بظاہر ایک حریف کے خاتمے کا تاثر تو دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسے ہولناک خلا کو جنم دے سکتا ہے جسے پُر کرنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ان کے سامنے ہیں، جہاں ریاستی ڈھانچے کے ٹوٹنے کے بعد پیدا ہونے والے انتشار نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔
دوسری طرف، ایک مضبوط اور مزاحم ایران کا تصور بھی خطے کے ممالک کےلیے کم خطرناک نہیں ہے۔ ایک ایسا ایران جو مسلسل عالمی دباؤ کے باوجود سینہ تان کر کھڑا رہا، وہ نہ صرف اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی بھرپور کوشش بھی کرے گا۔
خلیجی ریاستوں کے لیے یہ ایک ایسا پیچیدہ منظرنامہ ہے جس میں فی الحال کوئی واضح راستہ نظر نہیں آتا۔
یہ کشیدگی دراصل کوئی نئی نہیں ہے، اور اسے صرف 1979 کے اسلامی انقلاب کے تناظر میں دیکھنا ایک سطحی تجزیہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران اور خلیجی ریاستوں کے درمیان رقابت کی جڑیں اس سے کہیں زیادہ پرانی ہیں۔
شاہِ ایران کے دور میں بھی، جب تہران امریکہ کا قریبی اتحادی تھا، خلیجی ممالک اسے شک کی نظر سے دیکھتے تھے۔ اس کی وجہ نظریاتی نہیں بلکہ جغرافیائی اور عسکری تھی؛ ایران کا حجم، اس کی آبادی اور اس کی فوجی صلاحیت اسے ایک فطری علاقائی طاقت بناتی تھی، اور یہی وہ چیز تھی جو اس کے پڑوسیوں کے لیے ہمیشہ باعثِ تشویش رہی۔
اسلامی انقلاب نے اس قدیم رقابت کو ایک نیا نظریاتی رنگ ضرور دیا، مگر اس کی بنیادیں پہلے سے موجود تھیں۔
جب یہ جنگ شروع ہوئی، تو خلیجی دارالحکومتوں میں ایک محتاط امید پائی جاتی تھی کہ شاید یہ شدید دباؤ ایران کو کمزور کر دے گا، اگرچہ اسے مکمل طور پر تباہ نہیں کرے گا۔ لیکن جیسے جیسے جنگ طول پکڑتی گئی، یہ امید ایک غیر یقینی صورتحال میں تبدیل ہوتی گئی۔ ایران کی غیر متوقع مزاحمت اور امریکی پالیسی کی مبہم نوعیت نے اس تنازع کو ایک نئے، کھلے اور انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔
اب خلیجی پالیسی سازوں کے ذہنوں میں یہ احساس بھی جگہ بنا رہا ہے کہ شاید خطے میں امریکہ کی موجودگی کا بنیادی مقصد ان کا تحفظ نہیں بلکہ اسرائیل کے مفادات کا دفاع ہے۔
یہ سوچ نہ صرف سیاسی بلکہ سفارتی سطح پر بھی ایک بڑی حکمتِ عملی کی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں اسلام آباد کی وہ رات اور اس کے بعد کی صورت حال ایک نئے سوال کو جنم دیتی ہے؛ کیا یہ جنگ واقعی ختم ہونے کے قریب ہے، یا یہ صرف ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے؟
یہ تمام حالات اس بات کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ یہ جنگ اپنے اختتام کی طرف نہیں بلکہ ایک نئی شکل میں ڈھل رہی ہے۔ یہاں طاقت اور سفارت کاری ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، اور ہر پیش رفت اپنے اندر ایک نئی پیچیدگی لیے ہوئے ہے۔
اسرائیل کے لیے یہ صورتحال ایک بھیانک خواب سے کم نہیں ہے۔ تل ابیب کے لیے اصل چیلنج صرف ایران کی ایٹمی صلاحیت نہیں، بلکہ وہ علاقائی اثر و رسوخ ہے جو تہران نے دہائیوں کی محنت سے قائم کیا ہے۔
اسلام آباد میں ہونے والی پیش رفت نے اسرائیل کو اس خدشے میں مبتلا کر دیا ہے کہ شاید امریکہ اب کسی وقت مشرقِ وسطیٰ میں اپنے پرانے اتحادیوں کے بجائے’سیاسی حقیقت پسندی‘کو ترجیح دیتے ہوئے تہران کے ساتھ کسی بڑے سمجھوتے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرسکتا ہے۔
واشنگٹن اس وقت ایک دو راہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف اس کے دیرینہ اتحادی اسرائیل اور خلیجی ممالک ہیں، جن کی سلامتی کا وہ ضامن رہا ہے، اور دوسری طرف ایک بدلتی ہوئی عالمی حقیقت ہے جہاں چین اور روس جیسے حریف خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔
امریکہ کے لیے تہران کے ساتھ کسی بھی قسم کی مفاہمت کا مطلب اپنے اتحادیوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے، لیکن جنگ کا تسلسل خود امریکی معیشت اور عالمی استحکام کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ طاقت کا توازن بدل چکا ہے، اور اب دنیا کو ایک ایسے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ جینا سیکھنا ہوگا جہاں تہران ایک حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
یہ جنگ شاید اپنے جسمانی وجود میں ختم ہو رہی ہو، لیکن اس کے سیاسی اور تزویراتی اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں, فکر و نظر






