اتر پردیش کی یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں قائم کیے جائیں گے ’اینٹی کنورژن‘ سیل

AhmadJunaidJ&K News urduJune 12, 2026362 Views


اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل نے ہدایت دی ہے کہ تمام یونیورسٹیوں اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’اینٹی کنورژن‘ سیل قائم کیے جائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو متاثر کرکے، ان میں خوف پیدا کرکے، ذہنی دباؤ ڈال کر یا لالچ دے کر کیے جانے والے کسی بھی طرح کے غیر قانونی یا جبری تبدیلی مذہب کی کوششیں پوری طرح سے ناقابل قبول، غیر اخلاقی اور قانون کے خلاف ہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی

نئی دہلی: اتر پردیش کی گورنر آنندی بین پٹیل نے ریاست کی تمام یونیورسٹیوں، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور میڈیکل و ڈینٹل کالجوں میں ’اینٹی کنورژن‘ سیل قائم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس قدم کو ریاست کی حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) حکومت کی حمایت حاصل ہے۔

گورنر سکرٹریٹ کی جانب سے وائس چانسلروں، تمام ریاستی یونیورسٹیوں اور اداروں کے ڈائریکٹر اور تمام اعلیٰ تعلیمی اداروں، جن میں میڈیکل اداروں اور دیگرکو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ طلبہ کو مبینہ طور پر لالچ، نفسیاتی دباؤ یا دیگر غیر اخلاقی طریقوں کے ذریعے متاثر کیے جانے (تبدیلی مذہب کی غرض سے) کی خبروں کے پیش نظر کونسلنگ سروسز، نگرانی کے نظام،شکایت اور رپورٹنگ کے طریقہ کار کو مضبوط بنایا جائے اور احتیاطی حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔

انڈین ایکسپریس کے مطابق، خط میں کہا گیا ہے، ’ طلبہ کو متاثر کرکے، ان میں خوف پیدا کرکے، ذہنی دباؤ ڈال کر یا غیر اخلاقی لالچ دے کر کیے جانے والے کسی بھی طرح کے غیر قانونی یا جبری تبدیلی مذہب کے اقدامات پوری طرح سےناقابل قبول، غیر اخلاقی اور قانون کے خلاف ہیں۔ ‘

خط میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ’لالچ یا نفسیاتی دباؤ کے ذریعے طلبہ کا مذہب تبدیل کروانے کی کوششوں سے متعلق خبریں مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔ ’یونیورسٹی اور ادارہ جاتی سطح پر’اینٹی ریڈیکلائزیشن یونٹس یا اسٹوڈنٹ ویلفیئر سیل کو زیادہ فعال کیا جانا چاہیے۔ ‘

خط میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ ادارے ’اخلاقی اقدار، منطقی سوچ اور قانونی حقوق ‘ پر لیکچر اور سیمینارکا انعقاد کریں۔ ساتھ ہی یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ اگر کوئی تنظیم، گروہ یا فرد تبدیلی مذہب کی مشتبہ سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کی اطلاع فوراًمقامی انتظامیہ اور پولیس کو دی جائے۔

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے معاملوں میں ریاست کے انسدادتبدیلی  مذہب قوانین کے تحت کارروائی کی جانی چاہیے۔

غور طلب ہے کہ دی وائر پہلے بھی اپنی رپورٹ میں بتا چکا ہے کہ اینٹی کنورژن لاز کا استعمال کئی بار نافذ کرنے والے ادارے ازخود نوٹس یا سیاسی ہدایات کے تحت غلط استعمال کرتے رہے ہیں۔بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد اور دیگر تنظیموں سے وابستہ افراد بھی ان قوانین کا استعمال اقلیتوں، خصوصی طو رپر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کے لیے کرتے ہیں۔ کوئی بھی غیر ہندو ادارہ یا گروپ جو مفت کلینک، اسکالر شپ  یا حتیٰ کہ ایک دوستانہ دعائیہ اجتماع کا اہتمام کرتا ہے، وہ جانچ  کے دائرے میں آ جاتا ہے، اور اس کے بعد اسے قانونی اور غیر قانونی دونوں طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔

ایسے کئی معاملے سامنے آئے ہیں جن میں ہندو قوم پرست تنظیم کی شکایت کے بعد پولیس نے کمزور یا نہ ہونے کے برابر شواہد کے باوجود فوری کارروائی کی۔ کم سزا کی شرح کے باعث گرفتاریاں، عدالتی کارروائیاں اور تشدد سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس قانون کے حوالے سے یہ تاثر بنتا ہے کہ ان قوانین کا استعمال تبدیلی مذہب  کو روکنے کے بجائے اقلیتوں کو ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

اسی سال اپریل میں اُتر پردیش پروہبیشن آف ان لا فل کنورژن آف ریلیجن ایکٹ، 2021 کے تحت درج کی جا رہی جھوٹی ایف آئی آرکے تشویشناک رجحان پر تنقید کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ نے ریاست کے ایڈیشنل چیف سکرٹری (داخلہ) کو ہدایت دی تھی کہ وہ شخصی حلف نامہ داخل کرتے ہوئےیہ واضح کریں کہ ایسے معاملوں میں کیا کارروائی کی جا رہی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...