
فائل تصویر: 27 جون 2017 کو واشنگٹن میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی:گزشتہ دو دنوں کے دوران عمان کے پاس ایم ٹی ماری ویکس، ایم ٹی سیٹیبیلو اور ایم ٹی جلویر پر امریکی فوج کے حملوں نے امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کے حوالے سے مودی حکومت کے رویے پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔ ان تینوں جہازوں پر ہندوستانی ملاح سوار تھے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکہ نے اس ہفتے خلیج میں تین جہازوں پر حملے کیے ہیں، اور ان تمام جہازوں پر ہندوستانی عملہ موجود تھا۔
خلیجی خطے میں امریکی فوج کی ان ہدفی کارروائیوں نے آزاد ہندوستان کی تاریخ میں ایک ایسے واقعہ کوجنم دیا ہے جس میں امریکی فوج نے ہندوستانی شہریوں کی جان لی ہے۔
ان ہلاکتوں پر نہ تو امریکی فوج اور نہ ہی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کوئی بیان سامنے آیا ہے، حالانکہ نئی دہلی کے احتجاج کے باوجود ہندوستانی ملاحوں والے کامرشیل جہازوں کو نشانہ بنانا جاری ہے۔
تاہم، نہ وزیر اعظم نریندر مودی اور نہ ہی مرکزی کابینہ کے کسی سینئر رکن نے ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت پر امریکہ کی براہ راست مذمت کرتے ہوئے ایک لفظ بھی کہا ہے۔
وزارت خارجہ کے بیان میں حملے کے ذمہ داروں کا نام لینے سے مکمل گریز کیا گیا اور اس مہلک حملے کو محض ’علاقے میں جاری تنازعہ کا براہ راست نتیجہ‘ قرار دیا گیا۔
لاشیں ملنے کے بعد مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، بحری نقل و حمل اور آبی گزرگاہوں کی جانب سے رسمی تعزیتی پیغام کے علاوہ ملک کی سیاسی قیادت نے ایک سوچے سمجھے انداز میں خاموشی اختیارکر رکھی ہے۔
وہیں، جب صحار کے قریب سمندر سے ہندوستانی ملاحوں کی لاشیں نکالی جا رہی تھیں، اسی وقت نئی دہلی کے سیاسی طرز عمل میں ایک نمایاں تضاد دیکھنے میں آیا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر وزیر اعظم نریندر مودی کو اقتدار میں 12 سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ وزیر اعظم مودی نے فوراً وقت نکال کر ٹرمپ کی نیک تمناؤں پر عوامی طور پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی فوجی حملوں پر وزیر اعظم مودی کی مسلسل خاموشی ہندوستانی شہریوں کے جان بچانے کی آئینی ذمہ داری کی خلاف وزری ہے۔
آئین کا آرٹیکل 52 صدر مملکت کو ملک کا محافظ قرار دیتا ہے، لیکن بیرون ملک شہریوں کی حفاظت کی عملی ذمہ داری وزیر اعظم کی سربراہی میں سیاسی انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔
ایسے میں بین الاقوامی سمندری حدود میں امریکی فوج کے ہاتھوں بے گناہ ہندوستانی شہریوں کی ہلاکت پر خاموش رہنا وزیر اعظم کی حیثیت سے ان کی آئینی ذمہ داری سے روگردانی کے مترادف ہے۔
Perhaps first time in history that Hellfire missiles were used on Indian civilians. This quad partner is amazing. https://t.co/forXHXLO9f
— Kallol Bhattacherjee (@janusmyth) June 11, 2026
یہ حملے نہ صرف وزیر اعظم مودی کی مضبوط قیادت کے دعووں پر سوال اٹھاتے ہیں بلکہ ہندوستان کی ’اسٹریٹجک خودمختاری‘ کے اصول کے ساتھ دھوکے کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ اس اصول کے مطابق جب ملک کے شہریوں کو نقصان پہنچے توہندوستان کو، چاہے کسی بھی ملک کے ساتھ اس کے تعلقات کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں، آزادانہ اور خودمختار انداز میں کارروائی کرنی چاہیے۔
امریکہ ایک اسٹریٹجک پارٹنر ضرور ہے، لیکن جب کسی اسٹریٹجک پارٹنر کی فوج آپ کے شہریوں کی جان لیتی ہے تو اسٹریٹجک خودمختاری کا تقاضہ ہے کہ اس کی عوامی سطح پر مذمت کی جائے۔ نئی دہلی کی جانب سے ایسا نہ کر پاناہندوستان کی’اسٹریٹجک خودمختاری‘کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔
دراصل مودی حکومت نے بار بار اس بات پر زور دے کر امریکی کارروائی کو بالواسطہ طور پر صحیح ٹھہرانے کی کوشش کی ہے کہ ’دو جہازوں پر پابندیاں لگی ہوئی تھیں اور ایک جہاز اصولوں کی پابندی نہیں کر رہا تھا۔ ‘
اپنی سیاسی ذمہ داری اور گھریلو جوابدہی سے بچنے کے لیے حکومت نے قانونی باریکیوں کا حوالہ دیتے ہوئے یہ دلیل بھی دی ہے کہ ایم ٹی ماری ویکس، ایم ٹی سیٹیبیلو اور ایم ٹی جلویر غیر ملکی جھنڈےوالے جہاز تھے (جن پر پلاؤ یا گنی بساؤ کا جھنڈا لگا ہوا تھا) اور وہ ہندوستانی ملکیت والے نہیں تھے۔
بتادیں کہ سینٹ کام کی جانب سے افسوس کا اظہار نہ کیے جانے پر بعض سابق سفارت کاروں اور خارجہ سروس کے افسران نے سخت تنقید کی ہے۔
Why are we indirectly justifying the US action by referring to OFAC and using terms like non- compliance?
These are illegal actions even if the ships are not Indian- flagged.
Our concern is that Indian seamen have been killed and no regret has been expressed by CENTCOM.
— Kanwal Sibal (@KanwalSibal) June 11, 2026
اب تک کیا کیا ہوا؟
بدھ (10 جون) کو وزارت خارجہ نے عمان کے ساحل کے قریب موجود تجارتی جہاز ایم ٹی سیٹیبیلو کے بارے میں ایک مختصر سابیان جاری کیا تھا۔
بیان میں کہا گیا تھا،’ہم آج عمان کے ساحل کے قریب تجارتی جہاز سیٹیبیلو پر ہونے والے حملے کی مذمت کرتے ہیں۔ جہاز پر موجود 24 ہندوستانی عملے کے ارکان میں سے اب تک 21 ہندوستانیوں کو بچا لیا گیا ہے جبکہ 3 ہندوستانیوں کے لاپتہ ہونے کی خبرہے۔‘
اس کے بعد جمعرات کو مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور آبی گزرگاہیں، سربانند سونووال نے تصدیق کی کہ لاپتہ ہونے والے تینوں ہندوستانی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی فوج کے ایک میزائل حملے کے نتیجے میں جہاز کا انجن روم بے کار ہو جانے کے بعد ان کی لاشیں برآمد کی گئیں۔
ایم ٹی سیٹیبیلو پر ہونے والے اس مہلک حملے سے صرف 24 گھنٹے قبل ایک اور جہاز، ایم ٹی ماری ویکس پر بھی حملہ ہوا تھا، جس پر 24 ہندوستانی عملے کے ارکان سوار تھے۔
سوموار کو ایم ٹی ماری ویکس پر حملے کے بعد سرکاری ذرائع نے کہا تھا کہ یہ ’ہندوستانی پرچم والا جہاز‘نہیں تھا، اس لیے مودی حکومت کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ حکومت نے حملے کے ذمہ دار کے طور پر امریکہ کا نام لینے سے بھی گریز کیا تھا۔
منگل کو ہونے والے مہلک حملے کے جواب میں وزارت خارجہ نے نئی دہلی میں چارج ڈی افیئرزجیسن میکس کو طلب کر کے سفارتی قدم اٹھایا۔
امریکی سفارت کار کے سامنے وزارت خارجہ کے ایڈیشنل سکریٹری ناگ راج نائیڈو نے باضابطہ طور پر ہندوستان کا احتجاج درج کرایا اورہندوستانی شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا۔
تاہم، اس کا امریکہ پر کوئی اثر نہیں پڑا اور اس نے جمعرات کو دوبارہ ایم ٹی جلویر کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعد مودی حکومت نے اطلاع دی کہ عمان کے قریب امریکی فوجی حملے کے بعد ایم ٹی جلویر پر موجود تمام 20 عملے کے ارکان، جو سب کے سب ہندوستانی تھے، محفوظ ہیں۔
تازہ پیش رفت
اب بڑھتے ہوئے غصے اور دباؤ کے درمیان ہندوستانی وزارت خارجہ نے جمعہ (12 جون) کو اس ہفتے دوسری مرتبہ امریکی سفارت خانے کے چارج ڈی افیئرزکو طلب کیا ہے۔ وزارت نے یہ قدم خلیج عمان میں تیسرے جہاز پر حملے کے خلاف احتجاج کے طور پر اٹھایا، جس میں زیادہ تر ہندوستانی شہری سوار تھے۔
خبروں کے مطابق، امریکی سفارت خانے کے ڈپٹی چیف آف مشن جیسن میکس کو دوپہر تقریباً 2 بجے جواہر لعل نہرو بھون میں واقع وزارت خارجہ کے ہیڈکوارٹر طلب کیا گیا، جہاں انہوں نے ایڈیشنل سکریٹری (امریکہ) ناگ راج نائیڈو سے ملاقات کی۔
حکام کے مطابق، وزارت نے گنی بساؤ جھنڈے والے ٹینکر ایم ٹی جلویر سے متعلق تازہ واقعہ پر ہندوستانی کی تشویش سے آگاہ کیا۔
یہ سفارتی قدم اس واقعہ کے دو دن بعد اٹھایا گیا ہے جب نئی دہلی نے 10 جون کو پلاؤ کے جھنڈے والے ٹینکر ایم ٹی سیٹیبیلو پر حملے کے خلاف احتجاج کے لیے میکس کو طلب کیا تھا۔ اس حملے میں تین ہندوستانی ملاح ہلاک ہو گئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ امریکی سفیر سرجیو گور اب بھی ہندوستان سے باہر دورے پر ہیں۔
اس سے قبل جب انہیں طلب کیا گیا تھا تو وہ واقعہ دیر شام کو پیش آیا تھا اور اس کی عوامی سطح پر کوئی باضابطہ اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ تاہم جمعہ کی ملاقات دفتری اوقات میں ہوئی اور اس دوران وزارت کی عمارت کے اندر اور باہر ٹی وی کیمرے موجود تھے۔
Categories: خاص خبر, خبریں, عالمی خبریں






