
ایران کی ’مہر نیوز ایجنسی‘ نے امریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی ایم او یو کی تفصیلات شائع کی ہیں۔ اس میں 60 دنوں کے مذاکرات کے دوران ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثوں کو بحال کرنے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔
جنگ کو فوری طور پر اور ہمیشہ کے لیے بند کیا جائے گا، جس میں لبنان کا محاذ بھی شامل ہوگا۔
امریکہ، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔
امریکہ اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 دنوں کے اندر آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
امریکی افواج ایران کے ارد گرد کے علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں گی۔
ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں نرمی کی جائے گی اور ایران کو اپنی تیل کی آمدنی کی رقم دوبارہ حاصل ہو سکے گی۔
امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ایران کی تعمیرِ نو کے لیے 300 ارب ڈالر تک کی امداد فراہم کریں گے۔
اگلے 60 دنوں تک دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات جاری رہیں گے، جن میں جوہری پروگرام اور پابندیوں پر تفصیلی بات چیت ہوگی۔
ایران جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت یہ وعدہ کرے گا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائے گا۔
مذاکرات کے دوران امریکہ کی جانب سے کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی جائے گی۔
مذاکرات کے دوران امریکہ ایران کے خلاف کوئی نئی فوجی کارروائی نہیں کرے گا۔
ایران کے 24 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے مرحلہ وار طریقے سے واپس کیے جائیں گے۔
معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک باقاعدہ نظام یا طریقہ کار بنایا جائے گا۔
حتمی معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) سے منظور کرانے کی کوشش کی جائے گی۔
ایران کا میزائل پروگرام اور اس کی حمایت یافتہ پراکسی تنظیموں کے معاملات ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گے۔
واضح رہے کہ ایران کی ’مہر نیوز ایجنسی‘ کی جانب سے سامنے آنے والی معاہدے کی ان شرائط کی تصدیق اب تک ایران یا امریکہ کی طرف سے نہیں کی گئی ہے۔ فریقین کے باضابطہ مذاکرات کی طرف بڑھنے کے ساتھ ہی ان میں تبدیلیاں بھی ہو سکتی ہیں۔






