
مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ۔ (تصویر: پی ٹی آئی/فائل)
نئی دہلی:مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ نے آبادیاتی تبدیلی (ڈیموگرافک چینج)کے جائزے کے لیے تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی کو ہدایت دی ہے کہ وہ ’سرحدی اضلاع میں آبادی کے ڈھانچے میں آئی تبدیلیوں کا مطالعہ کرے۔‘ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی نے حکام کے حوالے سے یہ جانکاری دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، شاہ نے اس متنازعہ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور کمیٹی سے کہا کہ وہ غیر قانونی ہجرت اور دیگر غیر معمولی عوامل کے باعث پیدا ہونے والی آبادیاتی تبدیلیوں کا جائزہ لینے کے لیے سرحدی علاقوں،مہانگروں اور صنعتی شہروں کا دورہ کرے۔
مئی کے اواخر میں اس کمیٹی کے چیئرمین بنائےگئے ریٹائرڈ جج جسٹس پی پی ناؤلیکر نے کہا تھا کہ اس عہدے کے لیے ان کا انتخاب خود ان کے لیے بھی حیران کن تھا۔ انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا تھا کہ ڈیموگرافی اور غیر قانونی ہجرت ان کے لیے ’نئے موضوع‘ ہیں۔
کمیٹی میں اتر پردیش کے سابق چیف سکریٹری درگا شنکر مشرا، بیورو آف پولیس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ (بی پی آر اینڈ ڈی) کے سابق ڈائریکٹر جنرل بالاجی سریواستو اور ماہر معاشیات شامیکا روی بھی رکن ہیں۔ وزارت داخلہ کے ایک جوائنٹ سکریٹری کمیٹی کے رکن سکریٹری ہوں گے۔
دی وائر پہلے اس بات تجزیہ کر چکا ہے کہ اس کمیٹی میں ایک بھی ماہر آبادیات (ڈیموگرافر) شامل نہیں ہے۔ اس سے نہ صرف ان نتائج کی ساکھ اور معیار پر سوال پیدا ہوتے ہیں جن کی بنیاد پر مستقبل میں پالیسی سازی کی جا سکتی ہے، بلکہ یہ خدشہ بھی ہے کہ کہیں یہ عمل مردم شماری کے باضابطہ نظام کو نظرانداز کرنے کی کوشش تو نہیں، جبکہ 2027 کی مردم شماری کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔
حالیہ برسوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما بارہا ’آبادی کے دھماکے‘کا مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں اور اس کے لیے اقلیتی برادریوں کو ذمہ دار ٹھہرانے والے دعوے کرتے رہے ہیں۔
دریں اثنا، امت شاہ کی جانب سے کمیٹی کو دی گئی ان ہدایات کےمتوازی مغربی بنگال اور آسام کے سرحدی اضلاع میں بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے ساتھ ایسے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں جن میں ان کی شہریت پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے انہیں جسمانی طور پر بنگلہ دیش کی جانب دھکیلے جانے کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر انسانی عمل ہے جو عدالتوں کے کردار کو نظرانداز کرتے ہوئے اختیار کیا جا رہا ہے۔






