وقتی راحت کی امید، مگر پائیدار امن سے کوسوں دور…عبید اللہ ناصر

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 12, 2025368 Views


یہ ایک طرح سے اس پرانے نظام کو واپس لانے کی کوشش ہے جب پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے خلافتِ عثمانیہ کا خاتمہ کر کے فلسطین کو اپنی نگرانی میں لے لیا اور بعد میں امانت میں خیانت کرتے ہوئے اسے تقسیم کر کے اسرائیل کو جنم دیا۔ یہی بین الاقوامی اتھارٹی غزہ کی تعمیرِ نو کا کام بھی دیکھے گی، جس میں امریکی، برطانوی اور دیگر یورپی ملکوں کے ٹھیکیداروں اور سرمایہ کاروں کے وارے نیارے ہو جائیں گے۔

اس امن فارمولے میں بہت سے سقم ہیں اور مستقبل کے کئی خطرے پوشیدہ ہیں لیکن چونکہ غزہ کو جس طرح قبرستان بنا دیا گیا ہے، وہاں کے لوگوں کو بھوکا پیاسا مارا جا رہا ہے، ان حالات میں فوری جنگ بندی اور راحت رسانی پہلی ترجیح ہے، جس کا راستہ اس سمجھوتے سے کھلتا دکھائی دیتا ہے، اس لیے اس کا خیرمقدم کیا جانا چاہئے۔

امید ہے کہ حماس اور اس کے حامی بھی تلخ زمینی حقیقت کا ادراک کرتے ہوئے اس سمجھوتے کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، تاکہ وہاں فوری طور پر راحت پہنچ سکے، انفراسٹرکچر درست ہوں اور معمولاتِ زندگی کسی حد تک بحال ہو سکیں۔ پھر بھی یہ حتمی حل نہیں ہے، نہ یہ منصفانہ ہے اور نہ ہی پائیدار۔ فلسطین کے مسئلے کا پائیدار حل صرف دو مملکتی فارمولے میں مضمر ہے، یہی خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے اور اسرائیل کے تحفظ کی گارنٹی بھی یہی فارمولہ ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...