
خبروں کے مطابق اکھلیش یادو کا فیس بک پیج، جس کے 80 لاکھ سے زیادہ فالوورز ہیں، جمعہ کو شام 6 بجے کے قریب بلاک کر دیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ فیس بک نے یہ قدم مبینہ طور پر ایک ’اشتعال انگیز اور فحش پوسٹ‘ کو لے کر اٹھایا ہے اور فیس بک کی یہ کارروائی پلیٹ فارم کی اپنی پالیسیوں کے تحت کی گئی۔
اس سے پہلے معاملے پر پارٹی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے حکمراں بی جے پی پر جمہوریت کو دبانے کا الزام لگایا۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان فخر الحسن چاند نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پرکی گئی پوسٹ میں لکھا کہ ’ملک کی تیسری سب سے بڑی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو کے فیس بک اکاونٹ کو معطل کرنا جمہوریت پر حملہ ہے‘۔ انہوں نے مزید لکھا کہ بی جے پی حکومت نے ملک میں غیر اعلانیہ ایمر جنسی نافذ کر دی ہے۔ بی جے پی کے خلاف اٹھنے والی کسی بھی آواز کو دبا دیا جاتا ہے لیکن سماج وادی پارٹی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔






