
وزیراعظم نریندر مودی نے 15 ستمبر کو اس بجلی گھر کا ورچوئل سنگ بنیاد رکھا، اسی دوران کئی کسانوں کو نظر بند یا گرفتار کرلیا گیا۔ حتیٰ کہ مقامی پنچایت کے سربراہ دیپک سنگھ کو بھی اسی روز جیل بھیج دیا گیا۔ اس سب سے عوامی بے چینی مزید بڑھ گئی۔
بائیں بازو کی جماعت سی پی آئی (ایم ایل-لبریشن) کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے پیرپینتی کا دورہ کیا اور رپورٹ دی کہ کملاپور کے کم از کم 65 خاندانوں کو گھروں سے بے دخل کرنے کے احکامات دیے گئے ہیں لیکن ان کے لیے کوئی بازآبادکاری منصوبہ موجود نہیں۔ ٹیم کے رکن شیو ساگر شرما نے کہا، ’’اڈانی کے خلاف بولنا ہی جیل بھیجنے کے لیے کافی ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔‘‘
اصل تنازعہ زمین کے حصول کا ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں جب حکومت نے زمین لی تھی، تب بھی آم اور لیچی جیسی نقد آور فصلوں والی زمینوں کے لیے دیا گیا معاوضہ بازار قیمت سے کہیں کم تھا۔ اب ایک بار پھر انہیں کمزور اور بے بس کر کے زمین چھینی جا رہی ہے۔






