
عید الاضحی کے پہلے دن بدھ کی صبح پو پھٹتے ہی حجاج کرام نے مشعر منیٰ میں جمرات کمپلیکس کی طرف پیش قدمی کی اور جمرہ عقبہ کبریٰ پر کنکریاں مارنے کی رسم ادا کی۔ اس کے بعد قربانی، بال منڈوانے یا کٹوانے اور طواف افاضہ کا مرحلہ شروع ہوا۔ طواف افاضہ حج کے بنیادی ارکان میں شامل ہے اور اس کی ادائیگی کے لیے حجاج کرام مسلسل مسجد حرام پہنچ رہے ہیں۔
رمی کے ابتدائی مرحلے کے بعد حجاج دوبارہ منیٰ لوٹ رہے ہیں جہاں ایام تشریق کے دوران قیام کیا جا رہا ہے۔ آئندہ دو دنوں میں حجاج کرام تینوں جمرات پر سات سات کنکریاں ماریں گے۔ یہ عمل حج کے آخری اہم مراحل میں شمار ہوتا ہے اور اس کے بعد حجاج کی عبادات تکمیل کے قریب پہنچ جائیں گی۔






