
انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ پرتشدد مظاہروں اور سرکاری دفاتر کو نقصان پہنچانے کے واقعات کی تحقیقات ضرور ہوں گی اور اس سلسلے میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کے تعاون کے بغیر حکومت اپنے اہداف حاصل نہیں کر سکتی۔
نئی عبوری حکومت سے خاص طور پر نوجوانوں کو بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سابق جج ہونے کے باعث کارکی شفافیت اور انصاف پر مبنی نظام کی بحالی کی طرف قدم بڑھا سکتی ہیں۔ ایک مقامی نوجوان سنتوش نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے کام کے لیے بھی رشوت دینی پڑتی تھی، جبکہ بڑے لیڈروں کے کام فوری نمٹ جاتے تھے۔ انہوں نے کہا، ’’یہ تبدیلی ضروری تھی۔ امید ہے اب نظام بہتر ہوگا۔‘‘






