
ڈاکٹر رانا نے مزید بتایا کہ کھاتہ کھیڑی کو ’ووڈن سٹی‘ کہا جاتا ہے جہاں زیادہ تر لوگ لکڑی کے کام سے وابستہ ہیں۔ یہ لوگ بنیادی طور پر کاریگر اور مزدور ہیں لیکن اس کے باوجود انہوں نے جس ہمت اور جذبے کا مظاہرہ کیا وہ قابل ستائش ہے۔ ان کے مطابق مختلف مساجد اور تنظیموں میں الگ الگ سطح پر امداد اکٹھی کی جا رہی ہے اور جلد ہی مکمل اعداد و شمار سامنے آ جائیں گے کہ اس علاقے سے کتنی بڑی رقم اور سامان پنجاب بھیجا گیا۔
عمر حق رانا نے مزید کہا کہ اب انڈین فارماسسٹ ایسوسی ایشن کی ٹیم متاثرہ علاقوں میں خصوصی طور پر طبی امداد کے لیے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ دواؤں کا بڑا ذخیرہ اکٹھا کر کے وہاں کیمپ لگایا جائے تاکہ متاثرہ افراد کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔‘‘






