
دعا کو ہاتھ اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے (افتخار عارف)
تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی (منور رانا)
ماں کی آغوش میں کل، موت کی آغوش میں آج
ہم کو دنیا میں یہ دو وقت سہانے سے ملے (کیف بھوپالی)
ایک لڑکا شہر کی رونق میں سب کچھ بھول جائے
ایک بڑھیا روز چوکھٹ پر دیا روشن کرے (عرفان صدیقی)
اب اک رومال میرے ساتھ کا ہے
جو میری والدہ کے ہاتھ کا ہے (سید ضمیر جعفری)
یہ کچھ چنیدہ اشعار ہیں جو ماں کے موضوع پر کہے گئے ہیں۔ ان اشعار میں ماں سے محبت، ماں کی مامتا، ماں کی موجودگی میں کسی بھی خطرے سے بے خوفی اور ماں کا اپنی اولاد پر سب کچھ قربان کر دینے کے جذبے کا اظہار ہے۔ پوری اردو شاعری ماں سے محبت و احترام کے جذبے سے بھری پڑی ہے۔ ماں پر اشعار کہنے والے تمام شعرا نے ماں کے تئیں عزت و احترام کا مظاہرہ کیا ہے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ کوئی ایک ہی ایسا شعر مل جائے جس میں کسی شاعر نے ماں کے احترام پر اس کے استحصال کو ترجیح دی ہو لیکن ہمیں ایسا کوئی شعر نہیں ملا۔ دراصل کوئی بھی حساس، سنجیدہ اور ماں کا احترام کرنے والا شخص ماں کے نام کے استحصال کے بارے میں سوچ ہی نہیں سکتا۔ لیکن برا ہو سیاست کا کہ بعض سیاست داں ماں کے نام کے استحصال سے بھی باز نہیں آتے۔





