
لاہور میں رفیع نے استاد عبدالواحد خان اور غلام علی خان سے موسیقی کی تربیت حاصل کی۔ ایک یادگار لمحہ اس وقت آیا جب حمید انہیں کے ایل سہگل کے شو میں لے گئے لیکن بجلی نہ ہونے پر سہگل نے گانے سے انکار کر دیا۔ حمید کی درخواست پر کنوینر نے رفیع کو موقع دیا اور 13 سال کی عمر میں انہوں نے پہلی بار اسٹیج پر گایا۔ موسیقار شیام سندر، جو سامعین میں موجود تھے، ان کی آواز سے متاثر ہوئے اور رفیع کو ممبئی بلایا۔
رفیع نے سب سے پہلا گانا پنجابی فلم ’گل بلوچ‘ میں زینت بیگم کے ساتھ گایا۔ 1944 میں انہوں نے نوشاد کی موسیقی میں ’پہلے آپ‘ فلم کے لیے ہندی گانا ’ہندوستان کے ہم ہیں‘ گایا۔ 1949 کی فلم ’دلاری‘ کا نغمہ ’سہانی رات ڈھل چکی‘ ان کی شہرت کا دروازہ بنا۔






