کیا مصنوعی زہانت سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے؟

AhmadJunaidJ&K News urduJune 14, 2026365 Views


قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ کی دوسری قسط میں مصنوعی ذہن کے بڑھتے ہوئے استعمال، اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا گیا۔ ادارے کے ڈیجیٹل ایڈیٹر سید خرم رضا نے پروگرام میں بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت ایسی ٹیکنالوجی ہے جو مشینوں کو سیکھنے، سمجھنے اور فیصلے کرنے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے، جس کے باعث تعلیم، طب، صنعت، زراعت، تحقیق اور دیگر شعبوں میں بڑی تبدیلیاں متوقع ہیں۔

پروگرام میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مصنوعی ذہانت کام کی رفتار اور درستگی میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے، جبکہ پیچیدہ حساب کتاب، طبی تشخیص، اعداد و شمار کے تجزیے اور تعلیمی معاونت جیسے شعبوں میں بھی اس کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔ پروگرام میں یہ بھی کہا گیا کہ نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ روزگار کے حوالے سے خدشات ہمیشہ موجود رہے ہیں، تاہم ماضی میں کمپیوٹر کے استعمال کے بارے میں ظاہر کیے گئے اندیشے بڑی حد تک درست ثابت نہیں ہوئے۔

قسط میں مصنوعی ذہانت سے وابستہ منفی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا گیا، جن میں بعض ملازمتوں پر اثرات، رازداری کے مسائل، اعداد و شمار کے تحفظ کے خدشات اور غلط یا جانبدارانہ معلومات کے پھیلاؤ کا خطرہ شامل ہے۔ پروگرام میں اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی کو روکا نہیں جا سکتا، تاہم اس کے ذمہ دارانہ استعمال اور ممکنہ نقصانات سے بچاؤ کے لیے مؤثر حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...