
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ بین الاقوامی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی ہوئی ہے اور وہاں بحری آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے۔ بیان کے مطابق ڈرونز کو مار گرانے کی کارروائی کے بعد بھی جہاز رانی پر کسی قسم کا اثر نہیں پڑا اور تجارتی سرگرمیاں بلا رکاوٹ جاری رہیں۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ ڈرون تجارتی بحری ٹریفک کے لیے ممکنہ خطرہ بن سکتے تھے، اسی لیے انہیں ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کر دیا گیا۔ ایک امریکی عہدیدار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ امریکی فوج نے کئی ایرانی ڈرون مار گرائے، جنہیں تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ تصور کیا جا رہا تھا۔





