
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میناکشی نٹراجن نے کہا کہ وہ شروع سے ہی الیکشن کمیشن کے رویے پر اعتراض کرتی رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب کانگریس کے نمائندے اس معاملے کو لے کر الیکشن کمیشن کے پاس پہنچے تو انہیں 48 گھنٹے تک کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ سپریم کورٹ نے ان کی عرضی پر سماعت کی اور فیصلہ سنایا لیکن اس پورے معاملے نے کئی اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
نٹراجن نے کہا کہ یہ معاملہ کسی ریاستی حکومت یا مدھیہ پردیش انتظامیہ کے خلاف نہیں تھا، بلکہ ان کی شکایت انتخابی عمل کو سنبھالنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کے کردار سے متعلق تھی۔ ان کے مطابق ریٹرننگ افسر کے فیصلے اور اس کے بعد ہونے والی پیش رفت نے عوام کے سامنے کئی حقائق واضح کر دیے ہیں۔






