روس-یوکرین جنگ میں پھنسے پوروانچل کے نوجوانوں کی دردناک کہانی ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ اتر پردیش کے اعظم گڑھ اور مئو اضلاع کے کئی نوجوان بہتر روزگار کی تلاش میں ایجنٹوں کے جھانسے میں آ کر 2024 میں روس گئے تھے۔ انہیں گارڈ اور ہیلپر کی ملازمت کا خواب دکھایا گیا تھا، لیکن روس پہنچنے کے بعد مبینہ طور پر انہیں جبراً فوجی تربیت دے کر جنگی محاذ پر بھیج دیا گیا۔ اسی دوران 2 نوجوان ہلاک ہو گئے، جن کی باقیات 2 سال بعد ان کے گھروں تک ’کنکال‘ کی شکل میں پہنچی ہیں۔
جمعرات (11 جون) کو اعظم گڑھ کے رہائشی اظہرالدین اور ضلع مئو کے رہائشی رام چندر کی باقیات ان کے اہل خانہ کے حوالے کی گئیں۔ دونوں طویل عرصے سے لاپتہ تھے۔ ان کی شناخت ڈی این اے جانچ کے ذریعہ کی گئی، جس کے بعد روس سے ان کی باقیات ہندوستان بھیجی گئیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اعظم گڑھ اور مئو کے کئی نوجوان جنوری 2024 میں روزگار کی تلاش کرتے ہوئے ایجنٹوں کے رابطے میں آئے تھے۔ اہل خانہ کے مطابق مئو کے ایک ایجنٹ نے انہیں گارڈ اور ہیلپر کی ملازمت کا لالچ دے کر روس بھیجا تھا۔ وہاں پہنچنے کے بعد نوجوانوں کو مبینہ طور پر جنگی علاقے میں بھیج دیا گیا۔ اس دوران کئی افراد زخمی ہوئے، کچھ واپس لوٹ آئے، جبکہ متعدد نوجوان لاپتہ ہو گئے۔
اظہرالدین 27 جنوری 2024 کو روس گیا تھا۔ اس کے لاپتہ ہونے کے بعد خاندان مسلسل اس کی تلاش میں مصروف رہا۔ متوفی کے بھائی عظیم الدین نے بتایا کہ وہ اپنے بھائی کی تلاش میں سعودی عرب کی ملازمت چھوڑ کر ہندوستان اور روس کے مختلف سرکاری دفاتر اور سفارت خانوں کے چکر لگاتا رہا۔ طویل کوششوں اور سرکاری مدد کے بعد بالآخر اس کے بھائی کی باقیات ہندوستان لائی جا سکیں۔ گھر والوں کا کہنا ہے کہ یہ بڑے پیمانے پر دھوکہ دہی کا معاملہ ہے، جس میں نوجوانوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر جنگی علاقوں میں پہنچایا گیا۔ انہوں نے اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ دار ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متوفیوں کی بقایہ تنخواہوں اور دیگر مالی واجبات کی ادائیگی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
موصولہ جانکاری کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے وارانسی ہوائی اڈے سے باقیات لا کر اہل خانہ کے حوالے کرنے کا انتظام کیا گیا۔ انتظامی حکام کی موجودگی میں تمام رسمی کارروائیاں مکمل کی گئیں۔ مہلوکین کے اہل خانہ کے مطابق روس میں جنگ میں ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں بڑی تعداد میں موجود تھیں، جن کی شناخت کرنا انتہائی دشوار تھا۔ اسی وجہ سے ڈی این اے نمونوں کی مدد لی گئی۔ ڈی این اے مطابقت کا عمل مکمل ہونے کے بعد ہی اظہرالدین کی شناخت یقینی ہو سکی اور اس کی باقیات ہندوستان روانہ کی گئیں۔



































