سپریم کورٹ نے جمعرات (11 جون) کو ایک تاریخی فیصلہ سنایا۔ عدالت نے کہا کہ سڑک حادثات میں جان گنوانے والی گھریلو خواتین کے کام کی قیمت کم از کم 30 ہزار روپے مانی جانی چاہیے۔ معاوضے کا تعین کرتے وقت اسی رقم کو بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ گھریلو خواتین کو قوم کی معمار کے طور تسلیم کیا جانا چاہیے۔
ملک بھر میں موٹر حادثات کے معاملات میں معاوضہ طے کرنے طریقے کو بدلنے والے اس اہم فیصلے میں جسٹس سنجے کرول اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بنچ نے گھریلو خواتین کی ’تصوراتی آمدنی‘ کو ہنر مند مزدوروں کی اجرت کے برابر ماننے کی پرانی عدالتی روایت کو خارج کر دیا۔ جس میں گھریلو خواتین کی آمدنی کو ہنر مند مزدوروں کی اجرت کے برابر مانا جاتا تھا۔
عدالت نے کہا کہ گھر کے کاموں کی معاشرتی اور معاشی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ اسے صرف عام مزدوری کے ترازو میں نہیں تولا جا سکتا۔ جسٹس کرول نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ گھریلو دیکھ بھال کے نقصان کی بھرپائی کے لیے 30 ہزار روپے کا نیا اصول بنایا گیا ہے۔ یہ رقم ’پرنئے سیٹھی‘ کیس میں طے کیے گئے دیگر فوائد کے علاوہ ہوگی۔
واضح رہے کہ یہ معاملہ پنجاب کی ریشما نامی خاتون سے منسلک ہے۔ ان کی موت نومبر 2001 میں ایک سڑک حادثے میں ہوئی تھی۔ ان کے شوہر اور 3 بچوں نے معاوضے کے لیے ٹریبونل کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا۔ ٹریبونل نے 2003 میں فیصلہ دیا، لیکن قانونی لڑائی سالوں تک چلتی رہی۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس پر دسمبر 2024 میں فیصلہ سنایا۔ حادثے کے 23 سال بعد آئے اس فیصلے پر سپریم کورٹ نے گہرے تشویش کا اظہار کیا۔
سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ موٹر حادثات سے متعلق دعووں کو عام طور پر ایک سال کے اندر نمٹا دینے چاہیے۔ عدالت نے تمام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ وہ ایسے معاملات کی نگرانی کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے مناسب انتظامی ہدایات جاری کرنے کو کہا تاکہ متاثرین کو وقت پر انصاف مل سکے۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ پورے ملک میں معاوضے کے پرانے طریقوں کو بدل دے گا۔ اب تک عدالتیں گھریلو خواتین کی آمدنی کم از کم اجرت کی بنیاد پر طے کرتی تھیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ گھر کے کام کو عام لیبر مارکیٹ کے پیمانوں سے نہیں ماپا جا سکتا۔ اس سے قبل بھی ’کیرتی بنام اورینٹل انشورنس‘ اور ’ارون کمار اگروال‘ جیسے معاملات میں عدالت نے کہا تھا کہ گھریلو خواتین کا تعاون انمول ہے۔ یہ نیا فیصلہ معاوضے کی رقم میں نمایاں اضافہ کر دے گا اور متاثرین کو معاشی استحکام دے گا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































