ایف سی آئی کو بھول جائیے، اڈانی آ چکے ہیں…رشمی سہگل

AhmadJunaidJ&K News urduJune 7, 2026361 Views


حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ملک کی غذائی سپلائی چین کو جدید بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کر رہی ہے لیکن کسان تنظیمیں اور زرعی ماہرین اسے ایک ایسے اقدام کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو ہندوستان کے غذائی نظام کو سرکاری نگرانی سے نکال کر بڑے کارپوریٹ اداروں کے ہاتھوں میں سونپ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اڈانی ایگری لاجسٹکس اور لیپ انڈیا فوڈ اینڈ لاجسٹکس پرائیویٹ لمیٹڈ کو اناج ذخیرہ کرنے کے بڑے معاہدے دیے جانے سے ملک کے زرعی اور غذائی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی رونما ہونے جا رہی ہے۔

حالیہ فیصلے کے تحت حکومت نے فوڈ کارپوریشن آف انڈیا (ایف سی آئی) کے ذخیرہ اندوزی کے جدید کاری پروگرام میں موجود ایک اہم ‘اجارہ داری مخالف‘ شرط کو ہٹا دیا۔ اس کے بعد اناج کے ذخیرے اور انتظام سے متعلق 134 منصوبوں میں سے 110 معاہدے دو بڑی کمپنیوں کے حصے میں چلے گئے۔ منصوبے کے مطابق ملک میں 60 لاکھ میٹرک ٹن اضافی ذخیرہ اندوزی کی گنجائش پیدا کی جانی ہے، جس میں سے تقریباً 46.5 لاکھ میٹرک ٹن کی صلاحیت اڈانی گروپ اور لیپ انڈیا کے زیر انتظام ہوگی۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...