کرناٹک حکومت میں قلمدانوں کی تقسیم، وزیر اعلیٰ نے محکمہ مالیات اپنے پاس رکھا، پریانک کھڑگے بنے وزیر داخلہ

AhmadJunaidJ&K News urduJune 5, 2026361 Views


نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کو محکمۂ محصولات کے ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کھیل کے محکمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار / آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار / آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے اپنی نئی 13 رکنی وزارتی کونسل میں قلمدانوں کی تقسیم کر دی ہے۔ گورنر کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ شیوکمار نے محکمۂ مالیات، عملہ اور انتظامی اصلاحات اپنے پاس ہی رکھے ہیں۔ اس کے علاوہ جن محکموں کی ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی ہے، وہ بھی وزیر اعلیٰ کے پاس رہیں گے۔ نائب وزیر اعلیٰ جی پرمیشور کو محکمۂ محصولات کے ساتھ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور کھیل کے محکمہ کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ پریانک کھڑگے کو محکمۂ داخلہ دیا گیا ہے۔

ریاستی حکومت میں کے جے جارج کو محکمۂ توانائی کے ساتھ محکمۂ سیاحت کی اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ایم بی پاٹل کے پاس بڑے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کا محکمہ برقرار رکھا گیا ہے۔ ستیش جارکیہولی محکمۂ تعمیرات عامہ (پی ڈبلیو ڈی) کی ذمہ داری بدستور سنبھالیں گے، جبکہ کے ایچ منیپّا کو محکمۂ خوراک و شہری رسد اور شرن پرکاش پاٹل کو محکمۂ طبی تعلیم کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ کرشن بائیرے گوڑا کو گریٹر بنگلورو اتھارٹی (جی بی اے) کے تحت بنگلورو شہری ترقی کا محکمہ دیا گیا ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر رام لنگا ریڈی کو بڑے اور درمیانے آبپاشی کے محکمے کی ذمہ داری ملی ہے۔ بیراتھی سریش کو محکمۂ ٹرانسپورٹ دیا گیا ہے، جبکہ یو ٹی قادر کو محکمۂ صحت سونپا گیا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ سدھارمیا کے بیٹے اور قانون ساز کونسل کے رکن یتیندر سدھارمیا کو محکمۂ شہری ترقی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ ان کے محکمے کے تحت شہری آب رسانی و سیوریج بورڈ، شہری بنیادی ڈھانچہ ترقی و مالیاتی کارپوریشن اور کئی شہری ترقیاتی اتھارٹیز شامل ہیں۔ ایشور کھنڈرے کو محکمۂ دیہی ترقی کا قلمدان سونپا گیا ہے۔

تاہم محکموں کی تقسیم کو لے کر کانگریس کے اندر کچھ ناراضگی بھی سامنے آئی ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق بعض وزراء اپنے حصے میں آنے والے محکموں سے مطمئن نہیں تھے، جس کی وجہ سے محکموں کی تقسیم میں تاخیر ہوئی۔ خاص طور پر بنگلورو کے بی ٹی ایم لے آؤٹ سے رکن اسمبلی رام لنگا ریڈی بنگلورو ترقی کا محکمہ چاہتے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ شیوکمار یہ محکمہ کرشنا بائیرے گوڑا کو دینا چاہتے تھے۔ اسی معاملے پر ریڈی نے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔

بہرحال، وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے کہا کہ قلمدانوں کی تقسیم کانگریس قیادت کی ہدایات کے مطابق کی گئی ہے اور تمام کارروائیاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے موقع پر راہل گاندھی بنگلورو آئیں گے۔ اس کے علاوہ کانگریس کے 4 امیدوار جمعہ کو قانون ساز کونسل کے انتخابات کے لیے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کریں گے، جبکہ پانچویں امیدوار کے نام پر پارٹی کے اندر ابھی بھی صلاح و مشورہ جاری ہے۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ 10 جون کے آس پاس کابینہ میں توسیع کا دوسرا مرحلہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم کانگریس قیادت نے ابھی اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...