
اس سے پہلے معاملے کی جانچ کر رہی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے بھی بیکانیر میں کارروائی کرتے ہوئے کوئلہ گلی واقع ایک فرم سے گھی کے نمونے حاصل کئے تھے۔ جانچ ایجنسیوں کو شک ہے کہ تروپتی بھیجے گئے کچھ کنسائنمنٹ کا تعلق بیکانیر سے ہو رہی سپلائی سے ہو سکتا ہے۔ حالانکہ ای ڈی نے ابھی تک سرکاری طور سے جانچ کے دائرے یا کارروائی کی وجوہات کا انکشاف نہیں کیا ہے لیکن جس طرح مالی ریکارڈ اور کاروباری دستاویزات کی جانچ کی جا رہی ہے، اس سے صاف ہے کہ معاملہ اب صرف گھی کے معیار تک محدود نہیں رہ گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ عقیدت سے وابستہ پرساد کی سپلائی میں آخر کس سطح پر کھیل ہوا اور کروڑوں روپئے کے اس مبینہ نیٹورک میں کون کون شامل ہیں۔ اب سبھی کی نظریں ای ڈی کی جانچ رپورٹ پر مرکوز ہیں جو اس پورے معاملے کے کئی بڑے راز کھول سکتی ہے۔






