
ایک ویڈیو کا اسکرین گریب ، جس میں مبینہ طور پر ایتان گلبوع نے شوٹ کیا تھا؛ اس میں فلسطینی گھروں کی تباہی کودکھایا گیا ہے۔ (کریڈٹ: ہند رجب فاؤنڈیشن)
نئی دہلی: ہند رجب فاؤنڈیشن (ایچ آر ایف) نے ہندوستان کی وزارت داخلہ، امیگریشن بیورو اور پولیس میں ایک شکایت درج کراتے ہوئے اسرائیلی شہری ایتان گلبوع کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔ موصولہ جانکاری کے مطابق، گلبوع اس وقت ہماچل پردیش میں چھٹیاں منا رہے ہیں۔
ایچ آر ایف نے کہا ہے کہ گلبوع اسرائیلی فوج کا ایک ریزرو سپاہی ہے اور وہ فلسطین میں رہائشی عمارتوں پر بمباری اور ان کی وسیع پیمانے پر تباہی میں براہ راست ملوث رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق یہ افعال جنیوا کنونشن ایکٹ 1960 کے تحت ’جنگی جرائم‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایک پریس ریلیز میں فاؤنڈیشن نے کہا کہ اس کی شکایت میں 2024 کے دوران خان یونس، رفح اور غزہ کے دیگر علاقوں میں رہائشی علاقوں کی تباہی کے متعدد واقعات کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں گلبوع کے مبینہ کردار کی نشاندہی کی گئی ہے۔ خصوصی طور پر جنوری 2024 میں خان یونس میں پیش آئے ایک واقعہ کا حوالہ دیا گیا ہے۔
ایچ آر ایف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کے پاس ایسے ویڈیو موجود ہیں جو مبینہ طور پر گلبوع نے خود ریکارڈ کیے ہیں۔ ان ویڈیو میں اسے رہائشی بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے احکامات دیتے، اس کو انجام دیتے اور اس کا جشن مناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ بتایا جار ہا ہے کہ یہ ویڈیو گلبوع کے خاندان نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے تھے۔
پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر ایچ آر ایف نے ہندوستانی پولیس سے درخواست کی ہے کہ بی این ایس ایس کی دفعہ 35(1)(سی) اور جنیوا کنونشن ایکٹ 1960 کی دفعات 3 اور 4 کے تحت گلبوع کو گرفتار کیا جائے۔ فاؤنڈیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر گرفتاری ممکن نہ ہو تو وزارت داخلہ اور بیورو آف امیگریشن اسے ہندوستان سے بے دخل کریں۔
ہندوستان سے کارروائی کے مطالبے کی وجوہات بیان کرتے ہوئے ایچ آر ایف نے کہا،’یہ اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہیں، جس کی ہندوستان نے توثیق کی ہے۔ کنونشن کے آرٹیکل 146 کے تحت ہندوستان پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ سنگین خلاف ورزیوں کے ملزمان کی تلاش کرے اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے، چاہے ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔ اس کے علاوہ، ہندوستان میں گلبوع کی موجودگی ہندوستانی آئین کے آرٹیکل 51(گ) کی روح کے منافی ہے، جو ریاست کو بین الاقوامی قانون کے احترام کو فروغ دینے کی ہدایت دیتا ہے۔ ‘
فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل دیاب ابو جہجہ نے کہا،’ایتان گلبوع کوئی عام سیاح نہیں بلکہ ایک جنگی مجرم ہے جو اپنے مبینہ جرائم کے نتائج سے بچتے ہوئے ہندوستان کی مہمان نوازی کا لطف اٹھا رہا ہے۔ اس نے عوامی طور پر ایسے ویڈیو شیئر کیے ہیں جن میں وہ غزہ کے پورے محلوں کو ملبے میں بدلتے ہوئے دکھائی دیتا ہے۔ ہندوستان کو فوری کارروائی کرتے ہوئے اسے گرفتار کرنا چاہیے اور اپنی سرزمین کو ایسے افراد کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہیں بننے دینا چاہیے جو شہریوں کی ہلاکتوں کا جشن مناتے ہیں۔‘
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ بدھ کی دوپہر تک اسے ہندوستانی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
غور طلب ہے کہ بیلجیم میں رجسٹرڈ ہند رجب فاؤنڈیشن کا نام پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ہند رجب 29 جنوری 2024 کو غزہ سٹی سے نکلنے کی کوشش کے دوران اپنے خاندان کے ساتھ ہلاک ہو گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ابتدائی حملے میں وہ زندہ بچ گئی تھی، لیکن کار میں پھنسی رہی، جبکہ اس کے خاندان کے دیگر افراد مارے گئے تھے۔ اس نے ہنگامی خدمات کو فون بھی کیا تھا، مگر بعد میں اس کی بھی موت ہو گئی۔ اس کی کال کی ریکارڈنگز عالمی سطح پر پر سنی گئیں۔
اس بچی کے قتل پر بننے والی فلم ’دی وائس آف ہند رجب‘ کو آسکر کے لیے نامزد کیا گیا تھا، تاہم ہندوستان کے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن نے کئی ماہ تک ہندوستان میں اس کی نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، اوریہ موقف اختیار کیا تھا کہ اس سے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔ بالآخر اسی ہفتےسی بی ایف سی نے فلم کی نمائش کی منظوری دے دی ہے، اور یہ 19 جون کو ہندوستان میں اے (صرف بالغوں کے لیے) سرٹیفکیٹ کے ساتھ ریلیز ہوگی۔






