
جب امریکہ کے مفادات کا سوال آتا ہے تو ٹرمپ کی انتظامیہ خودمختاری کے اصول کا حوالہ دیتی ہے، لیکن اسی اصول کی کھلی خلاف ورزی بھی کرتی ہے، جیسا کہ وینزویلا اور ایران میں امریکی اقدامات اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے لیے امریکی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ شی جن پنگ نے اسی تضاد کو شناخت کیا اور اسے ایک مؤثر سفارتی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔
چین کا پیغام نہایت واضح ہے: بین الاقوامی قانونی حیثیت اور جواز کا مرکز واشنگٹن نہیں بلکہ اقوام متحدہ ہونا چاہیے۔
بلاشبہ، بیجنگ کا اپنا ریکارڈ بھی بے داغ نہیں ہے۔ تائیوان، بحیرۂ جنوبی چین اور انسانی حقوق کے معاملوں میں اس کے رخ پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح، یوکرین پر روس کے حملے نے بھی خودمختاری سے متعلق کسی بھی مذاکرہ میں ماسکو کی صورت حال کمزور کر دی ہے۔ پھر بھی شی کے اس اقدام کی اصل طاقت اس کی اخلاقی بنیاد میں نہیں، اس کے سیاسی دورانیہ میں ہے۔ ٹرمپ کی یکطرفہ سوچ، ان کے وعدوں اور اقدامات کی غیریقینی نے چین کے لیے خود کو اصولوں، تحمل اور عالمی توازن کے محافظ کے طور پر پیش کرنا آسان کر دیا ہے۔






