مہنگائی کا بوجھ اٹھائیے، مسکرائیے اور وطن عزیز کی تعمیر و ترقی میں اپنا بھرپور حصہ ڈالیے

AhmadJunaidJ&K News urduMay 26, 2026359 Views


حکومت نے عوام کو سمجھانے کا کمال کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اگر پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیجیے کہ خارجہ پالیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیزل اور مہنگا ہو جائے تو مان لیجیے کہ ہندوستان وشوگرو بننے کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھا چکا ہے۔

یہ تصویر اے آئی  کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

ملک میں اس وقت دو چیزیں بہت تیزگام ہیں؛ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں، اور حکومت کے اشتہارات۔ فرق بس یہ ہے کہ پیٹرول عوام کی جیب جلا کر اوپر جا رہا ہے اور اشتہارات عوام کی آنکھوں میں ترقی کا دھواں چھوڑ کر۔ باقی دونوں کا مقصد ایک ہی ہے: عوام کو یہ سمجھانا کہ درد اور تکلیف ہی ملک و قوم کی تعمیر کا اصل ایندھن ہے۔ جتنا زیادہ درد، اتنا زیادہ وکاس۔ اب حالت یہ ہے کہ اگر جیب میں پیسے بچ جائیں تو آدمی کو خود پر شبہ ہونے لگتا ہے کہ کہیں وہ قومی مفاد میں خاطر خواہ  حصہ ڈالنے سے قاصر تو نہیں ہے۔

میڈیا کے ہمارے معزز ساتھی بھی اس وقت سخت ریاضت میں مصروف ہیں۔ وہ ٹی وی اسکرین پر ایسے بیٹھے رہتے ہیں جیسے اسٹیٹ نے انہیں ’سچ چھپانے‘ کی آئینی ذمہ داری سونپ دی ہو۔  اب پیٹرول سو پار کر جائے، ڈیزل ڈیڑھ سو کی طرف بڑھنے لگے، سبزیوں کی قیمتیں ایسے اچھلیں جیسے وہ ایشیائی کھیلوں میں حصہ لے رہی ہوں، مگر حضرت اینکر کی توجہ اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ اپوزیشن نے قومی ترانے کے دوران کتنی دیر تالیاں بجائیں اور کون سا رہنما خاموشی سے بیرون ملک کیوں چلا گیا۔

انہیں سب معلوم ہے کہ پیٹرول/ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ صرف گاڑی تک محدود نہیں رہتا۔ یہ آہستہ آہستہ آلو، ٹماٹر، دال، دودھ، اسکول فیس، سلنڈر اور کرایہ سب پر اثر انداز ہوتاہے۔ مگر اس موضوع پر ان کی خاموشی اتنی مقدس ہو چکی ہے کہ صوفی و درویش بھی اسے دیکھ کر اپنے زہد و ریاضت پر دوبارہ غور کرنے لگیں۔ کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ نیوز چینلوں کے اسٹوڈیو اب صحافت کے ادارےنہیں بلکہ سرکاری یوگا کیمپ ہیں، جہاں ’مہنگائی پرانایام‘ سکھایا جاتا ہے؛ مہنگائی کو دیکھو، محسوس کرو، اس سے متاثر ہو جاؤ، مگر سوال مت پوچھو۔


گاؤں میں پہلے کسان آسمان دیکھ کر کھیتی کا اندازہ لگاتے تھے۔ اب پیٹرول کی قیمت دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں کہ اس مہینے دال پکے گی یا صرف حب الوطنی سے پیٹ بھرنا ہوگا۔ شہری متوسط طبقہ تو اور بھی روحانیت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ وہ پیٹرول پمپ پر گاڑی کم اور خودداری زیادہ بھروانے جاتا ہے۔ اب آدمی لیٹر نہیں پوچھتا، پہلے یہ پوچھتا ہے کہ ’بھائی صاحب، اتنے میں آدمی بچ جائے گا نا؟‘


پیٹرول پمپ بھی اب کسی مقابلے کے امتحانی مرکز جیسے لگنے لگے ہیں۔ آدمی اندر امید لے کر جاتا ہے اور باہر آ کر زندگی کی تلخ سچائی کا سامنا کرتا ہے۔ پہلے لوگ ٹنکی فل کرواتے تھے، اب’دو سو کا ڈال دو‘کہتے وقت آواز دھیمی کر لیتے ہیں تاکہ پیچھے کھڑا دوسرا شخص ان کی مالی حالت پر نہ ہنسے یا ان کی حب الوطنی پر شک نہ کر بیٹھے۔ اب تو پیٹرول بھروا کر لوگ مشین کی طرف اسی خوف سے دیکھتے ہیں جیسے ہسپتال میں مریض اپنی میڈیکل رپورٹ دیکھتا ہے۔

حکومت نے بھی عوام کو سمجھانے کا ایک کمال کا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ اب اگر پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لیجیے کہ خارجہ پالیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ ڈیزل اور مہنگا ہو جائے تو مان لیجیے کہ ہندوستان وشو گرو بننے کی سمت میں فیصلہ کن قدم اٹھا چکا ہے۔ اور اگر گیس سلنڈر کی قیمت اتنی ہو جائے کہ باورچی خانے میں چولہا جلانا عیاشی لگنے لگے، تو اسے’آتم نربھر بھارت‘ کی تاریخی کامیابی سمجھا جائے گا۔ آخر خود کفیل وہی ہوتا ہے جو بغیر کھانا کھائے بھی زندہ رہنے کی صلاحیت پیدا کر لے۔

ادھر عوام راشن کا حساب لگا رہی ہے اور ادھر حکومت غیر ملکی رہنماؤں کے فون کال کے اشتہارات شائع کروا رہی ہے۔ جیسے ملک کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہو کہ وہائٹ ہاؤس سے گھنٹی بجی اور دہلی میں سرکاری بینڈ پارٹی نکل پڑی کہ سنو- سنو، امریکہ والا اپنے والے کا بڑا فین ہے۔ جلد ہی اطلاعات و نشریات کا محکمہ شاید یہ اشتہار جاری کرے—

’معزز شہریو! پیٹرول مہنگا ضرور ہوا ہے، لیکن فخر کیجیے کہ ہمارے لیڈر کا ذکر بین الاقوامی سطح پر ہو رہا ہے۔ کچھ ممالک کے پاس قدرتی وسائل ہیں، کچھ کے پاس جمہوریت؛ ہمارے پاس مہنگا والا لیڈر ہے اور اس کے اشتہارات ہیں۔‘


حکومت کا اشتہاری محکمہ اس ملک کے ان کمال کے اداروں میں سے ہے جو حقیقت سے نہیں بلکہ اس کی رنگین فوٹو کاپی سے کام چلاتے ہیں۔ ملک میں بے روزگاری ہو سکتی ہے، مہنگائی ہو سکتی ہے، نوجوان مقابلہ جاتی امتحانات اور عمر کی حدوں کے درمیان پھنس کر بوڑھے ہو سکتے ہیں، مگر سرکاری اشتہارات میں ہر شہری ایسے چمکتا دکھائی دے گا جیسے ریاست نے اسے ابھی ابھی’سب سے زیادہ مطمئن انسان‘کا انعام دیا ہو۔


کسان اشتہار میں ایسے مسکراتا ہے جیسے کھیت میں فصل نہیں بلکہ سیدھا سوئس بینک کا لاکر اُگ آیا ہو۔ اس کی دھوتی پر مٹی کم اور خوشحالی زیادہ دکھائی جاتی ہے۔ وہ ٹریکٹر پر ہاتھ رکھ کر ایسی اپنائیت بھری مسکراہٹ دیتا ہے جیسے ڈیزل کی قیمتیں نہ بڑھی ہوں بلکہ حکومت ہر صبح اس کے کھیت میں مفت عطر کا چھڑکاؤ کر رہی ہو۔ حقیقی کسان وہاں ڈیزل خریدنے سے پہلے کیلکولیٹر دیکھتا ہے اور یہاں اشتہار میں وہی کسان ڈرون ٹکنالوجی سے مستقبل کی کھیتی کر رہا ہوتا ہے۔

گھریلو خاتون گیس سلنڈر کو ایسے نہارتی دکھائی جاتی ہے جیسے وہ باورچی خانے کا سامان نہیں بلکہ گھر کا سب سے مہذب فرد ہو۔ سلنڈر گھر میں آتے ہی بچوں کا حوصلہ بڑھ جاتا ہے، پڑوسی ممالک کی پریشانی گہری ہو جاتی ہے اور پس منظر میں بانسری بجنے لگتی ہے۔ حقیقی زندگی میں وہی سلنڈر بک کرواتے وقت گھر کا بجٹ قربان ہو جاتا ہے، مگر اشتہار میں وہ خود انحصاری کا’لال کمل‘بن کر شاندار انداز میں جگمگاتا رہتا ہے۔

میڈیا کے ہمارے معزز ساتھی  بھی انتہائی سنجیدہ کیفیت کے ساتھ اسکرین پر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ چہرے پر وہی تاثرات جیسے ابھی ابھی انہوں نے قومی مفاد میں نیوٹن کا چوتھا قانون دریافت کر لیا ہو-’پیٹرول کی ہر بڑھتی قیمت حب الوطنی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔‘ پھر بڑے سکون سے بتایا جاتا ہے کہ بین الاقوامی حالات خراب ہیں، عالمی بحران ہے، تیل بازار غیر مستحکم ہیں، چاند کی سمت ٹھیک نہیں اور مریخ کا برج بھی شاید اپوزیشن کی ذہنیت سے متاثر ہے۔


متوسط طبقہ کی حالت سب سے دلچسپ ہے۔ وہ ہر مہینے بجٹ بناتا ہے اور ہر مہینے بجٹ اس سے بدلہ لے لیتا ہے۔ پہلے لوگ بینک بیلنس دیکھ کر مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے تھے، اب پیٹرول پمپ پر میٹر دیکھ کر زندگی کا فلسفہ بدل لیتے ہیں۔ آدمی پانچ سو روپے کا پیٹرول ڈلوا کر اسی عقیدت سے گاڑی اسٹارٹ کرتا ہے جیسے کسی مندر میں خصوصی درشن کا ٹکٹ لیا ہو۔


اور سچ پوچھیں تو اس ملک میں مہنگائی اب  کوئی وقتی مسئلہ نہیں رہی ۔ اسے ثقافتی ورثہ قرار دے دینا چاہیے۔ جیسے پرانے قلعے، تاریخی یادگاریں اور انتخابی وعدے محفوظ کیے جاتے ہیں، ویسے ہی مہنگائی کو بھی قومی ورثے کا درجہ ملنا چاہیے۔ آنے والی نسلوں کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھایا جائے گا کہ ایک زمانہ ایسا تھا جب لوگ پیٹرول نہیں خریدتے تھے بلکہ اپنے اوقات  کی ماہانہ جانچ کرواتے تھے۔

ممکن ہے آگے چل کر محققین یہ نتیجہ اخذ کریں کہ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں شہری دو چیزوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا تھا: قوم پرستی اور باورچی خانے کی گیس کی قیمت۔ دونوں میں مماثلت یہ تھی کہ دونوں پر سوال اٹھانا سماجی خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ اور تب شاید تاریخ یہ درج کرے کہ اس ملک کی سب سے بڑی کامیابی چندریان نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ جنتا مسلسل مہنگائی برداشت کرتے ہوئے بھی سرکاری اشتہارات میں مسکرانا نہیں بھولی۔

منوج کمار جھا راشٹریہ جنتا دل کے راجیہ سبھا ممبر ہیں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...